میں ریٹائرڈ نیم سرکاری ملازم ہوں ،اور تھوڑی سی پنشن حاصل کر رہا ہوں، ریٹائرڈ افراد کے لئے حکومت نے بہبود سرٹیفیکیٹ اور پنشنر ز کا اکاؤنٹ جاری کیا ہے، اور اس پر %15 فیصد ماہانہ منافع دیا جا رہا ہے، آیا یہ منافع حلال ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ مذکور ( بہبود سرٹیفیکیٹ اور پنشنرز) اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم چونکہ فقہی لحاظ سے قرض ہوتی ہے، اور قرض پر ہر قسم کا مشروط یا معروف نفع لینا شرعاً سود ہے، لہذا سائل کے لئے مذکور اکاؤنٹ میں رقم رکھوا کر اس پر ماہانہ پندرہ فیصد نفع لینا شرعاً جائز نہیں، بلکہ سود ہونے کی بناء پر حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما قال الله تعالى: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275) ۔
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134) ۔
وفي الدر المختار: لما تقرر ان الديون تقضى بامثالها ، (۳/605) ۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، اھ (5/ 166)۔