ایک آدمی نے فارمیسی کا امتحان پاس کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کیا ہے، خود میڈیکل سٹور کرنے سے قاصر ہے، کیا دوسرے کو سرٹیفیکیٹ فروخت کر سکتا ہے کہ وہ اس پر میڈیکل سٹور کھول لے؟
ڈگری اور لائسنس کوئی مال نہیں، بلکہ حکومت کی طرف سے کسی شخص کو میڈیکل اسٹور کھولنے کا ایک حق اور اجازت نامہ ہے، جو مطلوبہ تعلیم پر مشتمل کورس کی تحمیل اور مہارت کے حصول کے بعد اسے دیا جاتا ہے، اور اس کا استعمال قانوناً بھی اس کی ذات تک محدود ہوتا ہے ، اس لئے غیر قانونی طور پر سائل کو فارمیسی سرٹیفیکیٹ کسی دوسرے شخص کو فروخت کرنا جائز نہیں، البتہ اگر سائل اپنے نام سے میڈیکل اسٹور کھولے، اور اس میں دوائیوں کی خرید و فروخت کے لئے ایسے آدمی کو بٹھائے، جس کو اس فیلڈ سے متعلق کم از کم اتنی معلومات ضرور ہوں ،جو قانونی اعتبار سے میڈیکل اسٹور چلانے والے کے پاس ہونی چاہئیے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔
كما في سنن أبي داود: ، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يبيع طعاما فسأله كيف تبيع؟ فأخبره فأوحي إليه أن أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من غش» اھ (3/ 272)۔
وفي بحوث في قضايا فقهيه معاصرة: هل يجوز لحامل رخصة الايراد أو الايصدار أن يبيع هذه الرخصة إلى تاجر آخر ، (إلى قوله) ولكن كل ذلك إنما ياتى إذا كان في الحكومة قانون يسمع بنقل هذه الرخصة إلى رجل آخر أما إذا كانت الرخصة باسم رجل مخصوص أو شركة مخصوصة ولا يسمع القانون بنقلها إلى رجل آخر أو شركة أخرى فلا شبهة في عدم جواز بيعها لأن بيعها يؤدى حينئذ إلى الكذب والخديعة فان مشترى الرخصة يستعملها باسم البائع لا باسم نفسه فلا يحل ذلك إلا أن یوکل حامل الرحصة بالبیع والشراء اھ (۱/ ۱۱۵)-