حضرات میرا سوال یہ ہے کہ میں نے بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھولا ہوا ہے، اس میں 150 روپے سود کا آیا ہوا ہے، میں ان پیسوں کا کیا کروں، لیکن جب میں اکاونٹ کھلوا رہا تھا، تب بینک نے 120 روپے (ATM) کارڈ کے لیے لیئے تھے، کیا میں 150 روپے ( جو سود کے میرے اکاؤنٹ میں ہیں ) اس میں سے اے ٹی ا یم کارڈ کے پیسے کاٹ سکتا ہوں، اور بچے ہوئے 30 روپے کسی غریب کو دیدونگا، کیا ایسا کرنا درست ہے، مہربانی کر کے وضاحت فرمائیں۔
سائل نے یہ بیان نہیں کیا کہ اس کا اکاؤنٹ کسی سودی بینک میں ہے یا کسی اسلامی بینک میں، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگرسائل کا اکاؤنٹ کسی سودی بینک میں ہو تو اس پر ماہانہ یا سالانہ جو اضافی رقم دی جاتی ہے، وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز وحرام ہے، سائل کو چاہیے کہ فوراً اس اکاونٹ کو ختم کر کے کسی اسلامی بینک میں اکاونٹ کھلوائے یا اگر کوئی مجبوری ہو، تو اسی بینک میں کرنٹ اکاؤنٹ کھلوائے تاکہ سودی لین دین سے بچا جاسکے، جبکہ اب تک جو سودی رقم اکاؤنٹ میں آئی ہے، اس میں سے اے ٹی ایم کارڈ کے پیسے کاٹنا شرعاً جائز نہیں، اس پوری رقم کو بلانیت ثواب کسی مستحق فقیر کو دینا لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (سورۃ البقرۃ آیة 275)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم ( 2/855 رقم الحدیث 2807)۔