اگر ساس بہو کو اتنا تنگ کرے کہ نہ کھانے میں سے صحیح طرح دے، اور نہ شوہر کی کمائی میں سے کچھ دے، اور میکے جانے پر مجبور کرے، اور وہاں (میکے) سے واپس نہ لانے کی بیٹے کو اصرار کرے، تو ایسی صورت حال میں شوہر کو کیا کرنا چاہیے ؟ جبکہ میاں بیوی دونوں کے معاملات ٹھیک ٹھاک ہو۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست ہو، تو ساس کا بہو کو اس طرح تنگ کرنا ظلم اور سخت گناہ ہے ، مذکور ساس کو چاہیے کہ اپنے اس غلط طرز عمل سے باز آکر اپنی بہو سے اچھا سلوک کرے، اور بیٹے کے گھر بسانے میں تعاون کرے، جبکہ بیٹے کو بھی چاہیے کہ والدہ کی وجہ سے بیوی پر ظلم نہ کرے، اور نہ ہی اس کو علیحدہ کرے، بلکہ دونوں کو شریعت مطہرہ نے جو حق دیا ہے، اس کے مطابق دونوں کو حق دے، تاہم اگر ایک ساتھ رہائش اختیار کرنے میں جھگڑے ہوتے ہوں، تو پھر دونوں کی رہائش الگ کرے، تا کہ ہر ایک اپنی زندگی یکسوئی سے گزار سکے۔
ففی حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قلت: و في البدائع: ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اهـ فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار. (الى قوله) قلت: والحاصل أن المشهور وهو المتبادر من إطلاق المتون أنه يكفيها بيت له غلق من دار سواء كان في الدار ضرتها أو أحماؤها. وعلى ما فهمه في البحر من عبارة الخانية وارتضاه المصنف في شرحه لا يكفي ذلك إذا كان في الدار أحد من أحمائها يؤذيها، وكذا الضرة بالأولى. وعلى ما نقله المصنف عن ملتقط صدر الإسلام يكفي مع الأحماء لا مع الضرة، وعلى ما نقلنا عن ملتقط أبي القاسم وتجنيسه للأسروشني أن ذلك يختلف باختلاف الناس، ففي الشريفة ذات اليسار لا بد من إفرادها في دار، ومتوسط الحال يكفيها بيت واحد من دار اھ (3/ 601)
و في الفتاوى الهندية: تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك كذا في العيني شرح الكنز اھ (1/ 556)