السلام علیکم مفتی صاحب،
براہِ کرم میرے سوال کا جواب دیجیے۔ہم اپنی ضرورت کی چیزیں، جیسے کھانے پینے کی اشیاء، کپڑے اور دیگر لوازمات خریدتے ہیں۔ اگر ان مصنوعات پر لڑکیوں کی تصاویر موجود ہوں تو ہم پھر بھی انہیں استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح اگر میں ورڈپریس کی تھیمز اور پلگ اِنز فروخت کرتا ہوں، جو مکمل طور پر ایڈیٹ کی جا سکتی ہیں (یعنی خریدار اپنی ناپسندیدہ چیزیں، مثلاً تصاویر، تبدیل یا حذف کر سکتا ہے)، لیکن ان تھیمز اور پلگ اِنز میں لڑکیوں کی تصاویر موجود ہوں، تو کیا میری اس سے ہونے والی کمائی حلال ہوگی یا حرام؟
اور اگر یہ حرام ہو تو براہِ کرم اسلامی نقطۂ نظر سے بتائیں کہ میں اس مسئلے کو کس طرح درست کر سکتا ہوں؟
ضرورت کی اشیاء (کھانے، پینے، پہننے وغیرہ) اگر جاندار کی تصاویر پر مشتمل ہوں لیکن سائل کا مقصد تصاویر کی خرید وفروخت نہ ہو ، بلکہ ان اشیاء کی خرید وفروخت ہو تو ایسی صورت میں سائل کی کمائی حرام نہ ہوگی، ، البتہ اگر ان اشیاء کے ساتھ سائل تصاویر خود لگاتا ہو، تو ان کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، جس سے آئندہ کے لیے اجتناب لازم ہے، جبکہ ورڈ پریس پر ایسی نقش ونگاری اور "پلگ ان" بنانا جو غیر شرعی امور (خواتین کی تصاویر وغیرہ) پر مشتمل ہوں شرعاً جائز نہیں ، لہذا سائل کو چاہیے کہ غیر شرعی امور سے پاک نقش ونگاری اور پلگ ان بنانے کا اہتمام کریں
کما فی صحیح البخاری: حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا يزيد بن زريع، أخبرنا عوف، عن سعيد بن أبي الحسن، قال: كنت عند ابن عباس رضي الله عنهما، إذ أتاه رجل فقال: يا أبا عباس، إني إنسان إنما معيشتي من صنعة يدي، وإني أصنع هذه التصاوير، فقال ابن عباس: لا أحدثك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سمعته يقول: «من صور صورة، فإن الله معذبه حتى ينفخ فيها الروح، وليس بنافخ فيها أبدا» فربا الرجل ربوة شديدة، واصفر وجهه، فقال: ويحك، إن أبيت إلا أن تصنع، فعليك بهذا الشجر، كل شيء ليس فيه روح، قال أبو عبد الله: سمع سعيد بن أبي عروبة، من النضر بن أنس، هذا الواحد (3/82 رقم الحدیث 2225)۔
وفی الدرالمختار: (اشترى ثورا أو فرسا من خزف) لأجل (استئناس الصبي لا يصح و) لا قيمة له ف (لا يضمن متلفه وقيل بخلافه) يصح ويضمن قنية وفي آخر حظر المجتبى عن أبي يوسف يجوز بيع اللعبة وأن يلعب بها الصبيان الخ (5/226)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله عن أبي يوسف) أي ناقلا عن أبي يوسف، وظاهره أنه قوله لا رواية عنه حتى يقال: إن هذا يشعر بضعفه ونسبته إلى أبي يوسف لا تدل على أن الإمام يخالفه لاحتمال أن يكون له في المسألة قول فافهم الخ (5/226)۔