کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے بڑا پیشاب کیا اس کے بعد اس نے ڈھیلا یا پتھر استعمال کیا پھر وضو کرکے نماز پڑھی تو اس کی نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھے؟ یعنی پانی استعمال نہیں کیا۔
اگر ڈھیلا یا پتھر وغیرہ کے استعمال سے پاکی کا مکمل یقین ہوجائے تو پانی سے استنجاء کئے بغیر بھی نماز ادا ہوجاتی ہے، البتہ ڈھیلے یا پتھر کے بعد پانی کا استعمال کرنا بہتر اور افضل ہے۔
فی الہندیۃ: وإنما الشرط ہو الإنقاء حتی لو حصل بحجر واحدٍ یصیر مقیمًا للسنۃ ولو لم یحصل بثلاثۃ أحجارٍ لا یصیر مقیمًا للسنۃ کذا فی المضمرات (الی قولہ) والإستنجاء بالماء افضل إن أمکنہ ذلک من غیر کشف العورۃ وإن احتاج إلی کشف العورۃ یستنجی بالحجر ولا یستنجی بالماء۔ (الی قولہ) والأفضل أن یجمع بینہما۔ اھـ (ج۱، ص۴۸)-