نجاسات اور پاکی

استنجاء میں صرف پتھر وغیرہ کے استعمال کا حکم

فتوی نمبر :
59001
| تاریخ :
2000-02-02
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

استنجاء میں صرف پتھر وغیرہ کے استعمال کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے بڑا پیشاب کیا اس کے بعد اس نے ڈھیلا یا پتھر استعمال کیا پھر وضو کرکے نماز پڑھی تو اس کی نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھے؟ یعنی پانی استعمال نہیں کیا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر ڈھیلا یا پتھر وغیرہ کے استعمال سے پاکی کا مکمل یقین ہوجائے تو پانی سے استنجاء کئے بغیر بھی نماز ادا ہوجاتی ہے، البتہ ڈھیلے یا پتھر کے بعد پانی کا استعمال کرنا بہتر اور افضل ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الہندیۃ: وإنما الشرط ہو الإنقاء حتی لو حصل بحجر واحدٍ یصیر مقیمًا للسنۃ ولو لم یحصل بثلاثۃ أحجارٍ لا یصیر مقیمًا للسنۃ کذا فی المضمرات (الی قولہ) والإستنجاء بالماء افضل إن أمکنہ ذلک من غیر کشف العورۃ وإن احتاج إلی کشف العورۃ یستنجی بالحجر ولا یستنجی بالماء۔ (الی قولہ) والأفضل أن یجمع بینہما۔ اھـ (ج۱، ص۴۸)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59001کی تصدیق کریں
0     1578
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات