کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ٹینکی جس کی چھت نہیں ہے وہ مسجد کے وضو خانے پر بنائی گئی ہے، بسا اوقات پرندے (جن میں بعض حرام پرندے مثلاً کوّا، چیل وغیرہ ہیں) آکر اس ٹینکی سے پانی پیتے ہیں، البتہ ان کی بیٹ و نجاست وغیرہ کے آثار بالکل نہیں پائے گئے ہیں، اب بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں پانی ناپاک ہو چکا ہے، تو کیا مذکورہ ٹینکی کا پانی واقعۃً ناپاک ہے یا نہیں؟ اقوالِ فقہاء کی روشنی میں حکمِ شرعی بیان فرمائیں۔
ان پرندوں کی چونچ پاک ہے، لہٰذا ان کے پانی میں جونچ مارنے سے استحساناً پانی ناپاک نہیں ہوتا، البتہ پرندوں کی بیٹ پانی میں گرنے سے پانی کے ناپاک ہونے کا اندیشہ ہے، اس لۓ مذکور ٹینکی پر چھت ڈال دینی چاہیۓ۔
فی حاشية ابن عابدين: تحت (قوله طاهر للضرورة) وأما سباع الطير فالقياس نجاسة سؤرها كسباع البهائم بجامع حرمة لحمها والاستحسان طهارته؛ لأنها تشرب بمنقارها وهو عظم طاهر، بخلاف سباع البهائم؛ لأنها تشرب بلسانها المبتل بلعابها النجس، لكن لما كانت تأكل الميتة غالبا أشبهت المخلاة فكره سؤرها اھ(1/ 224)۔
وفی الفتاوى الهندية: وسؤر سباع الطير مكروه وعن أبي يوسف رحمه الله أنها إذا كانت محبوسة يعلم صاحبها أنه لا قذر على منقارها لا يكره واستحسن المشايخ هذه الرواية كذا في الهداية. وكذا سؤر ما لا يؤكل لحمه من الطير طاهر مكروه استحسانا. هكذا في شرح المبسوط. (1/ 24)۔