السلام علیکم!
میرے دوست نے ایک بیوہ سے شادی کی ہے اور ایک بیٹی سمیت اسے قبول کیا ہے، جو اس کے پہلے شوہر سے ہے ، یہ بہت بڑی نیکی بھی ہے ، میرا دوست اس بیٹی کو اپنا نام بھی دینا چا ہتا ہے ،کیا اس کے لیے شرعی اور قانونی طور پر جائز ہے کے اس کا نام کے آگے اپنا نام لکھوائے ،جبکہ وہ اب لڑکی کا باپ بھی ہے۔
واضح ہوکہ کسی بچہ یا بچی کو پالنا جائز بلکہ کار ثواب ہے،لیکن بچہ کی صرف پرورش کرنےسے وہ بچہ پالنے والے کی حقیقی اولاد نہیں بن جاتا،اس لئے کاغذات وغیرہ میں اس کے حقیقی والد جگہ اپنا نام لکھنا یا لکھوانا ناجائز اور گناہ ہے،اس لئے سائل کو چاہئیے کہ مذکور بچی کے ولدیت والے خانہ میں اس کے حقیقی والد کا نام ہی لکھے،البتہ سرپرست والے خانہ میں اپنا نام لکھ سکتاہے۔ واللہ اعلم !
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0