السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر زید نے میت کو غسل دینے کیلئے ایک بالٹی میں تازہ پانی لیا ، لیکن زید باوضو نہ تھا ، لیکن زید جسمانی اور ظاہری لحاظ سے پاک تھا اور زید نے پانی کے ٹھنڈا اور گرم ہونے کی شدت کو معلوم کرنے کیلئے اپنی انگلیوں کے کچھ حصے پانی میں ڈبو کر باہر نکال لیے، تو آیا کہ یہ پانی مستعمل ہو گیاہے کہ نہیں اور کیا اس پانی کو گرا کر نئے پانی سے غسل کرانا ہو گا ؟ براہِ کرم اس مسئلہ کی تفصیلی وضاحت فرمادیں جزاک اللہ
واضح ہوکہ صورتِ مسئولہ میں پانی ناپاک اور مستعمل شمار نہ ہوگا ، اس لئے اسی پانی سے میت کو غسل دینا درست ہے۔
کما فی رد المحتار: فلو قصد الاغتراف و نحوه كاستخراج كوز لم يصر مستعملا للضرورة اهـ (1/200)۔
و فی الفتاوى الهندية : إذا أدخل المحدث أو الجنب أو الحائض التي طهرت يده في الماء للاعتراف لا يصير مستعملا للضرورة ، كذا في التبيين و كذا إذا وقع الكوز في الجب فأدخل يده فيه إلى المرفق لإخراج الكوز لا يصير مستعملا بخلاف ما إذا أدخل يده في الإناء أو رجله للتبرد فإنه يصير مستعملا لعدم الضرورة ، هكذا في الخلاصة اھ (1/22)۔