نجاسات اور پاکی

بےوضو شخص اپنا ہاتھ پاک پانی میں ڈال دے تو پانی کی طہارت کا حکم

فتوی نمبر :
62405
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

بےوضو شخص اپنا ہاتھ پاک پانی میں ڈال دے تو پانی کی طہارت کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر زید نے میت کو غسل دینے کیلئے ایک بالٹی میں تازہ پانی لیا ، لیکن زید باوضو نہ تھا ، لیکن زید جسمانی اور ظاہری لحاظ سے پاک تھا اور زید نے پانی کے ٹھنڈا اور گرم ہونے کی شدت کو معلوم کرنے کیلئے اپنی انگلیوں کے کچھ حصے پانی میں ڈبو کر باہر نکال لیے، تو آیا کہ یہ پانی مستعمل ہو گیاہے کہ نہیں اور کیا اس پانی کو گرا کر نئے پانی سے غسل کرانا ہو گا ؟ براہِ کرم اس مسئلہ کی تفصیلی وضاحت فرمادیں جزاک اللہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ صورتِ مسئولہ میں پانی ناپاک اور مستعمل شمار نہ ہوگا ، اس لئے اسی پانی سے میت کو غسل دینا درست ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار: فلو قصد الاغتراف و نحوه كاستخراج كوز لم يصر مستعملا للضرورة اهـ (1/200)۔
و فی الفتاوى الهندية : إذا أدخل المحدث أو الجنب أو الحائض التي طهرت يده في الماء للاعتراف لا يصير مستعملا للضرورة ، كذا في التبيين و كذا إذا وقع الكوز في الجب فأدخل يده فيه إلى المرفق لإخراج الكوز لا يصير مستعملا بخلاف ما إذا أدخل يده في الإناء أو رجله للتبرد فإنه يصير مستعملا لعدم الضرورة ، هكذا في الخلاصة اھ (1/22)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 62405کی تصدیق کریں
0     1052
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات