نجاسات اور پاکی

تبدیل شدہ ذائقے والے پانی سے وضو کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
62626
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

تبدیل شدہ ذائقے والے پانی سے وضو کرنے کا حکم

السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک سرکاری ادارے میں نوکری کر رہا ہوں ، اس ادارے میں‬‎ ‎‫پانی کو انڈسٹری کے مختلف پراسس کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ، لہذا پانی کو مختلف جگہوں پر پہنچانے کیلئے بڑے موٹر پمپ لگے ہیں ، ‎‫موٹر پمپ کے اندر سیل لگی ہوتی ہیں اوران سیلوں کے اندر سے صاف پانی گزارا جاتا ہے ، جو کہ پمپ کو گرم نہیں ہونے دیتا،ان‬‎ ‎‫سیلوں سے پانی گذر کر ایک بڑی پائپ لائن میں مسلسل آتا رہتا ہے اور اس پانی کا ذائقہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے ، یعنی کہ پانی میں کڑواہٹ پن آجاتا ہے ،آپ سے پوچھنا تھا کہ کیا اس پانی سے وضو کیا جا سکتا ہے ۔ جزاکم اللہ ۔‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور پانی میں اگر کوئی نجاست شامل نہ ہو، تو صرف ذائقہ کی کڑواہٹ کی وجہ سے پانی ناپاک نہ ہو گا، بلکہ بدستور پاک ہی رہے گا، ‎‫اس لئے مذکور پانی سے وضو و غیرہ کرنا درست ہے۔‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

كما فی الدر المختار : (يرفع الحدث) مطلقاً (بماء مطلق) هو ما يتبادر عند الإطلاق (كماء سماء و أودية و عيون و آبار و بحار و ثلج مذاب) (و) يرفع (بماء ينعقد به ملح لا بماء) حاصل بذوبان اھ (1/ 179)۔
وفی الفتاوى الھندية : حوض صغير كرى منه رجل نهرا و اجرى الماء فيه و توضأ ثم اجتمع ذالك‬‎ ‎‫الماء فی مكان آخر فكرى منه رجل آخر نهرا و اجرى فيه الماء و توضا جاز وضوء الكل (الیٰ قوله) و كذا‬‎‬‬‬‬‬‬ حفيرتان يخرج الماء من احداهما و يدخل في الأخرى اهـ ‬(1/ 17)۔‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬
‎‫و فی الھداية : و يجوز الطهارة بماء خالطه شيئ طاهر فغير احد اوصافه كماء المد اھ (1/ 34)۔ ‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 62626کی تصدیق کریں
0     1126
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات