السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک سرکاری ادارے میں نوکری کر رہا ہوں ، اس ادارے میں پانی کو انڈسٹری کے مختلف پراسس کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ، لہذا پانی کو مختلف جگہوں پر پہنچانے کیلئے بڑے موٹر پمپ لگے ہیں ، موٹر پمپ کے اندر سیل لگی ہوتی ہیں اوران سیلوں کے اندر سے صاف پانی گزارا جاتا ہے ، جو کہ پمپ کو گرم نہیں ہونے دیتا،ان سیلوں سے پانی گذر کر ایک بڑی پائپ لائن میں مسلسل آتا رہتا ہے اور اس پانی کا ذائقہ بھی تبدیل ہو جاتا ہے ، یعنی کہ پانی میں کڑواہٹ پن آجاتا ہے ،آپ سے پوچھنا تھا کہ کیا اس پانی سے وضو کیا جا سکتا ہے ۔ جزاکم اللہ ۔
مذکور پانی میں اگر کوئی نجاست شامل نہ ہو، تو صرف ذائقہ کی کڑواہٹ کی وجہ سے پانی ناپاک نہ ہو گا، بلکہ بدستور پاک ہی رہے گا، اس لئے مذکور پانی سے وضو و غیرہ کرنا درست ہے۔
كما فی الدر المختار : (يرفع الحدث) مطلقاً (بماء مطلق) هو ما يتبادر عند الإطلاق (كماء سماء و أودية و عيون و آبار و بحار و ثلج مذاب) (و) يرفع (بماء ينعقد به ملح لا بماء) حاصل بذوبان اھ (1/ 179)۔
وفی الفتاوى الھندية : حوض صغير كرى منه رجل نهرا و اجرى الماء فيه و توضأ ثم اجتمع ذالك الماء فی مكان آخر فكرى منه رجل آخر نهرا و اجرى فيه الماء و توضا جاز وضوء الكل (الیٰ قوله) و كذا حفيرتان يخرج الماء من احداهما و يدخل في الأخرى اهـ (1/ 17)۔
و فی الھداية : و يجوز الطهارة بماء خالطه شيئ طاهر فغير احد اوصافه كماء المد اھ (1/ 34)۔