السلام و علیکم!
میرے شوہر ایک فیکٹری میں ملازمت کرتے ہیں ، وہ ڈپٹی مینیجر کے عہدے پر فائز ہیں ، فیکٹری والوں کی طرف سے اس عہدے کے حامل افراد کو ذاتی گاڑی ہونے کی صورت میں مفت پٹرول کی سہولت دی جاتی ہے ، میرے شوہر کے پاس اپنی ذاتی گاڑی نہیں ہے، وہ اپنے بھائی کی گاڑی اپنے نام کروا کر مفت پیٹرول کی سہولت حاصل کر رہے ہیں ،( واضح رہے کہ گاڑی ابھی بھی شوہر کی ملکیت نہیں ہے، اور ان کے بھائی نے اپنی رضامندی سے صرف کاغذی کارروائی کے طور پر گاڑی میرے شوہر کے نام کی ہے ،تاکہ سہولت سے فائدہ اٹھا یا جا سکے ) اور اس صورت میں حاصل ہونے والی رقم سے میرے شوہر ہی مستفید ہو رہے ہیں ،کیا ایسی آمدن شرعی طور پر جائز ہے ؟
کمپنی مالکان کو اگر مذکور صورتِ حال پر کوئی اعتراض نہ ہو تو سائلہ کے شوہر کے لئے اس سہولت سے فائدہ حاصل کرنا شرعاً جائز ہے ، اور ایسی صورت میں پیٹرول کی مد میں ملنے والی رقم بھی اس کے لئے حلال ہوگی، بصورتِ دیگر کمپنی انتظامیہ سے صراحۃً اجازت لینا شرعاً ضروری ہے، ورنہ اس رقم سے احتراز لازم ہے۔
كما في قول الله تعالى: ﴿يايها الذين امنوا لا تأكلوا اموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم﴾ (النساء : ٢٩) -
وفي مشكاة المصابيح : وعن أبى حرة الرقاشي عن عمه قال : قال رسول الله صلى الله الله عليه وسلم : ’’ألا لا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطیب نفس منه اھ (۱ / ۱۶۵)-