السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
میں بیوہ رحیم بخش ہوں، میرے مرحوم شوہر نے 25 لاکھ روپے کاروبار کےلئے عمر خالق کو دیے ، جس پر 35ہزار روپے ماہانہ منافع طے پایا، یہ سب ایک معاہدہ کی صورت میں موجود ہے، اب میرے شوہر (عمر77سال) کے رضائے الٰہی سے رحلت فرما جانے کے بعد قرضدار منافع دینے اور قرض ادا کرنے سے انکاری ہے، بیوہ و یتیم کے مال کھانے پر شریعت کیا حکم دیتی ہے ؟میں اور میری اولاد سودی منافع نہیں چاہتے ، ہمیں اس سودی معاہدہ کا میرے شوہر کی وفات سے 2ماہ قبل ہی علم ہوا، دونوں فریقین سے متعلق کیا حکم ہے, رہنمائی درکار ہے۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر مرحوم نے واقعۃً مسمیٰ عمر خالق کو 25 لاکھ روپے کاروبار میں پارٹنرشپ ( شراکت) کے لئے دیے ہوں اور اس کا معاہدہ بھی موجود ہو اور اب مسمیٰ عمر خالق بلاوجہ مذکور رقم کے ادا کرنے سےانکاری ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً و اخلاقاً جائز نہیں، بلکہ اسکی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہا ہے، اس پر لازم ہے کہ مرحوم کا مال اسکے ورثاء کے حوالے کرکے مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی کی فکر کرے، اور اپنی آخرت برباد نہ کرے، جبکہ سائلہ کے مرحوم شوہر کا 25 لاکھ رقم دے کر اس پر ماہانہ متعین رقم (35 ہزار) طے کرنا شرعاً جائز نہیں تھا، بلکہ اس شرط کی وجہ سے پارٹنرشپ فاسد ہوگئی تھی، چنانچہ اس صورت میں سائلہ کا مرحوم شوہر اپنے لگائے ہوئے سرمایہ کے تناسب سے منافع کا حقدار تھا، لہذا مسمی ٰعمر خالق پر لازم ہے کہ مذکور رقم اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع میں سے مذکور رقم کے تناسب سے رقم ورثاء کے حوالے کرے۔
کما فی تفسير الجلالين: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما} بغير حق {إنما يأكلون في بطونهم} أي ملأها {نارا} لأنه يؤول إليها {وسيصلون} بالبناء للفاعل والمفعول يدخلون {سعيرا} نارا شديدة يحترقون فيها۔اھ (ص: 99)
و فی الدر المختار: لايجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته۔اھ (6/ 200)