فوج میں سیکیورٹی ڈیوٹی پر سونا اور ٹچ فون چلانا سختی سے منع ہے اپنے ملک کی حفاظت اور اپنی یونٹ کی حفاظت کرنی پڑتی ہے اس کے باوجود کوئی ڈیوٹی پر سو جائے یا چپکے چپکے سے ٹچ فون چلائے تو آمدن جو ملے دونوں صورتوں میں حرام ہو گی یا حلال؟
مسئولہ صورت میں اگر کسی ملازم کی ڈیوٹی رات کو جاگ کر حفاظت کرنے کی ہو، اور وہ ڈیوٹی کرنے کے بجائے دورانِ ڈیوٹی با قاعدہ پڑ کر سو جائے، اور وہ اس دوران اپنی مفوضہ ذمہ داری انجام نہ دے، تو ایسی صورت میں تو اس کی اتنے وقت کی آمدنی شرعا حلال نہ ہو گی، لیکن اگر ایسی صورت حال نہ ہو، بلکہ وہ ڈیوٹی کے دوران ڈیوٹی کے مقام پر پہرہ داری کے لیے موجود رہے، البتہ دوران ڈیوٹی بشری تقاضے کی بناء پر اسے اونگھ آجائے، تو ایسی صورت میں اس کے اس وقت کی آمدنی کو حرام نہیں کہا جا سکتا، اسی طرح بقدر ضرورت ٹچ موبائل استعمال کرنے سے اگر مفوضہ ذمہ داری میں خلل واقع نہ ہوتا ہو، تو اتنے وقت کی آمدنی بھی شرعا حرام نہ ہو گی، لیکن اس کے باوجود چونکہ دوران ڈیوٹی ٹچ موبائل استعمال کرنا منع ہے، لہذا ایسے شخص کو ضابطہ کی خلاف ورزی سے بچتے ہوئے ڈیوٹی کے دوران ٹچ موبائل استعمال کرنے سے احتراز چاہیے۔
كما في الدر المختار: وتحقيقه في الدرر وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل فتاوى النوازل اھ (6/ 70)
و في الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي اھ (4/ 413)
و في قواعد الفقه: استحقاق الأجرة بعمل لا بمجرد قول اھ (ص: 57 قاعدة :25) واللہ اعلم بالصواب