میں اور میرے شوہر دوسری شادی میں ہیں، پرانی شادی سے میرا ایک بیٹا ہے، اور میرے شوہر کی بطور شوہر کوئی اولاد نہیں ہے ،اور ایک باپ کی حیثیت سے میرے شوہر ایک مثالی آدمی ہیں ، وہ بہت خیال رکھنے والے، پیار کرنے والے ہیں، اور ایک مثالی آدمی کی طرح میرا اور میرے بیٹے کا خیال رکھتے ہیں، اور میں بھی ایسا ہی کرتی ہوں، حال ہی میں، میں نے دریافت کیا کہ وہ اپنے کاروبار میں فراڈ کر رہا ہے، وہ لوگوں سے ویزہ اور سفری دستاویزات کی مد میں پیسے لیتا ہے، لیکن جعلی دستاویزات فراہم کرتا ہے،یہاں تک کہ میرے بھائی اور میرے رشتہ داروں کو بھی جعلی دستاویزات فراہم کیئے، اب ہر ہفتے باہر سے کئی لوگ مجھ سے رابطہ کر رہے ہیں، یا پھر مجھے کوئی نیا نمبر ملتا ہے ،جو مجھ سےبتاتا ہے کہ وہ ایک فراڈی ہے، اور اس نے اتنی رقم لی ہے، اور اب وہ جواب نہیں دے رہا ہے، میرے گھر والوں کو بھی اس پر بھروسہ نہیں ہے ،کیونکہ اس نے ان پر بھی اثر ڈالا ہے، جب میں نے تحقیقات شروع کی تو مجھے معلوم ہوا، کہ وہ کئی سالوں سے ایسا ہی ہے، اور ہماری بڑی لڑائیاں ہونے لگیں،میں ایک پڑھی لکھی عورت ہوں ، اور نوکری بھی کرتی ہوں،میں بھی اچھی کماتی ہوں، اور میں نے اس کا قرض چکانا شروع کردیا، جو کہ اب بھی لاکھوں میں ہے ،ان سب کی وجہ سے میں نے اس کی توہین کرنا شروع کردی ہے، اور ہر وقت ہم صرف انہیں باتوں پر بحث کرتے رہتے ہیں ،میں چاہتی ہوں کہ وہ ایک ایک پیسہ واپس کرے، کیونکہ بہت سے لوگ دھمکیاں دے رہے ہیں، لیکن اب میرے شوہر کو چڑچڑا پن ہونا شروع ہو گیا ہے،وہ کہتا ہے کہ ہر وقت آپ صرف پیسے اور دوسرے لوگوں کے معاملات کے بارے میں پوچھتے ہیں، ہمارا رشتہ بگڑ گیا ہے، کیا میں ٹھیک ہوں یا نہیں؟ اور کیا مجھے اس کے کاموں میں دخل دینا چاہیئے یا نہیں ؟ وہ اب بھی ایک شوہر اور باپ کے طور پر بہترین ہے ،لیکن مجھے یقین ہے کہ وہ ان دھوکہ دہی سے گھر کا خرچ چلا رہا ہے، براہ کرم میری مدد کریں کہ بیوی کو کیا کرنا چاہیے؟ مجھے ڈر ہے کہ اس کی حرکتیں مجھے کچھ نقصان پہنچائیں گی، وہ کہتا ہے کہ وہ بہتر ہو رہا ہے، لیکن میں ہمیشہ جھگڑتی رہتی ہوں ،بیٹا میں بہت زیادہ دباؤ میں ہوں۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو،تو سائلہ کے شوہر کا جعلی دستاویزات بنا کر لوگوں کو فروخت کرنا اور فراڈ کے ذریعہ ان سے رقوم وصول کرنا شرعاً ناجائز حرام اور گناہِ کبیرہ ہے ،اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ سے بصدق دل توبہ و استغفار کرنے کے ساتھ ساتھ جن لوگوں سے ناجائز رقم وصول کی ہے ،ان کو یا ان کے ورثاء کو جلد از جلد مذکور رقم پہنچائے ،ورنہ آخرت میں سبکدوشی نہ ہوسکے گی ۔
جبکہ سائلہ کیلئے اپنی طرف سے اپنے شوہر کا قرضہ ادا کرنا شرعاً لازم نہیں ،تاہم اگر سائلہ اپنی طرف سے بخوشی بطورِ تبرع ادا کرنا چاہتی ہے، تو یہ سائلہ کی طرف سے تبرع شمار ہوگا ، جس کا بعد اسے شوہر سے مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہ ہوگا ۔
سائلہ کو چاہیئے کہ حکمت و بصیرت کے ساتھ شوہر کو سمجھانے کی پوری کوشش کرے ،اگر خود سمجھانے میں کوئی فائدہ محسوس نہ ہو یا الٹا نقصان کا اندیشہ ہو ،تو از خود اس معاملہ میں نہ پڑے ،بلکہ خاندان کے معزز اور با اثر شخصیات کے ذریعہ شوہر کو سمجھانے کی فکر کرے، اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی سے اس کی ہدایت کی بھی دعا کرتی رہے ،امید ہے کہ اس سے معاملہ حل ہوجائے گا۔
کما قال اللہ تعالی :يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا (النساء /29)۔
و فی الصحیح للمسلم :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا، وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا»(99/1)
و فی الرد :وفي الذخيرة: سئل أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمر السلطان والغرامات المحرمة، وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن غصبا أو رشوة اهـ وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور إذا أكلت من طعامه، ولم يكن عينه غصبا أو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من ذلك والإثم على الزوج اهـ حموي اھ (386/6) واللہ اعلم