السلام علیکم! میرے والد بنگلہ دیش کے ایک سرکاری بینک میں کام کرتے تھے، جو سودی معاملات کرتا تھا، وہ پچھلے سال ریٹائر ہوئے تھے، چونکہ بینک کی نوکری کی آمدنی حلال نہیں ہے، میں اس کے موجودہ فرائض کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں!
وضاحت : میری والدہ ایک کالج میں پڑھاتی ہیں، اس سال ریٹائر ہو جائیں گی، ہمارے پاس جو جائیداد ہے، وہ والد اور والدہ دونوں کی تنخواہوں پر مشتمل ہے، میرے والد اور والدہ کی آمدنی کا تناسب 3/10تقریباً ہے، ہمارے پاس آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے، میں اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد نوکری تلاش کروں گا، ہماری زمین 1995 میں خریدی گئی، اس کی قیمت 4 لاکھ بنگلہ دیشی ٹکا ہے، اس رقم کے علاوہ میرے والد کو پہلے کی زمین بیچ کر دو لاکھ (200000)ٹکا ملے (جو والد اور والدہ کی تنخواہ سے حاصل کردہ نوے ہزار (90000) ٹکے سے خریدی گئی تھی اور باقی دولاکھ (200000) جزوی طور پر تنخواہ کی رقم سے ہیں اور زیادہ تر رشتہ داروں اور دوستوں سے ادھار لیے گئے ہیں، زمین خریدنے کے بعد، اس نے گھر بنانے کے لئے بینک سے قرض لیا اور اس رقم سے اس نے اپنے رشتہ داروں کے قرضے آہستہ آہستہ ادا کر دیے، اس نے گھر بنانے کے لئے اپنی کاروباری زندگی میں کئی مراحل میں قرض لیا، جس کی کل رقم پینتالیس لاکھ(4500000) ٹکا بنتی ہے، بینک حکام ہر ماہ تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ لیتے تھے، پچھلے 25 سالوں میں قرض کی ادائیگی کے لئے کل تنخواہ اور ریٹائرمنٹ الاؤنس سے تقریباً بہتر لاکھ(7200000) ٹکا کاٹا گیا ہے، زمین خریدنے کے بعد اس نے آدھی اراضی پر 2 منزلہ مکان بنایا (تقریباً 9 لاکھ ٹکا لاگت آئی) کچھ سالوں کے بعداس نے تیسری منزل پر کام کیا (لاگت 9 لاکھ) پھر چوتھی منزل (لاگت 20 لاکھ)پر، میرا سوال ہےکہ ہمارے گھر کے سامنے ایک مدرسہ (اسلامی اسکول اور یتیم خانہ) ہے، ہماری 4 منزلوں میں سے اگر 2 منزل مستقل طور پر مدرسہ حکام کو دیے جائیں، بغیر کسی ثواب کی نیت سے، تو کیا باقی 2 منزلیں اور زمین کا استعمال جائز ہوگا؟ (فی الحال مذکورہ 2 منزلوں کی فروخت کی قیمت پوری زمین کی قیمت خرید اور اس وقت کے پورے مکان کی تعمیراتی قیمت سے زیادہ ہوگی) اب تک ہمیں اپنے گھر کے کرائے سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہے یا حرام؟کچھ سال پہلے میرے والدین کی تنخواہ سے ایک اور جگہ زمین خریدی تھی، اب زمین کی قیمت تقریباً چار گنا بڑھ چکی ہے، اگر ہم ایک چوتھائی زمین بیچ کر عطیہ کر دیں، بغیر کسی ثواب کی نیت کے؟ تو کیا باقی زمین استعمال کی جاسکتی ہے ؟کیا ہمیں اے سی موٹر سائیکل ، فون ، بستر وغیرہ قیمت فروخت عطیہ کرنی ہوگی؟ بینک میں اسے وہ کام بھی کرنے پڑتے تھے ، جہاں سود کا لین دین نہ ہو ، مثال کے طور پر، سرکاری افسران کی تنخواہوں کے بلوں کی تیاری، رسید جمع کرنے کا کام، کرنٹ اکاؤنٹ کے لین دین، امپورٹ ایکسپورٹ پیپر ورک، لاکر کا کرایہ، بجلی اور پانی کے بل جمع، امتحانی فیس جمع، ایل سی کھولنا وغیرہ، اس صورت میں، کیا وہ اپنے ریٹائرمنٹ الاؤنس کی تمام رقم صدقہ کرے ، بغیر ثواب کی نیت کے؟ کس سیکٹر میں بینک کی تنخواہ/ریٹائرمنٹ الاؤنس عطیہ کیا جا سکتا ہے ثواب کی نیت کے بغیر ؟ کیا اسے بچوں اور بوڑھوں کی قرآنی تعلیم کے پروگراموں پر خرچ کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ غریب رشتہ داروں کو دیا جا سکتا ہے؟ میرے ایک چچا بنک میں کام کرتے ہیں، اگر وہ بنک کی نوکری چھوڑ دیں تو کیا میرے والد انہیں اپنے ریٹائرمنٹ الاؤنس میں سے پیسے دے سکتے ہیں؟ تاکہ وہ ان(چچا) کا کاروبار شروع کر سکیں، میرے والد حج کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنے کسی رشتہ دار سے قرض لے کر حج پر جائے اور گھر آکر اپنے بینک کی تنخواہ/ریٹائرمنٹ الاؤنس سے قرض ادا کرے تو کیا یہ جائز ہوگا ؟ مجھے ایک شیخ نے بتایا کہ بالغ ہونے کے بعدجتنی رقم میں نے اپنے والد سے لی ہے تو وہ قرض شمار ہوگی تو اس صورت میں مذکور رقم کی ادائیگی کے وقت کبھی انہیں بتانا پڑے گا؟ یا میں ان کے لئے کوئی اور چیز خریدوں تاکہ اپنا مذکور قرضہ ادا کروں؟ میں نے سنا ہے کہ حرام دولت کی وراثت شریعت میں معتبر نہیں، اگر کوئی بینکر اپنی جائیداد چھوڑ کر مر جائے تو کیا ساری جائیداد اس کے بچوں کو عطیہ کرنی چاہیئے ؟ قیمت خرید ؟ اگر آپ کے پاس کوئی اور تجاویز ہیں تو براہِ کرم مجھے بتائیں! (جزاک اللہ)۔
سائل کے والد کی اگر اکثر ذمہ داریاں ایسی ہوں، جن کا تعلق براہِ راست سودی لین دین سے نہ ہو تو اس پر ملنے والی تنخواہ جائز اور درست ہے، البتہ اگر سودی لین دین بھی اصل ذمہ داری میں شامل ہو تو اس کام کے بقدر ملنے والی تنخواہ حلال نہ ہوگی، بلکہ اس کے بقدر رقم صدقہ کرنا لازم ہے، لہذا سائل کے والد نے مذکور تنخواہ سے جتنی پراپرٹی بنائی ہے تو اس میں سے حرام تنخواہ کے بقدر رقم صدقہ کردے تو پھر مذکور پراپرٹی اپنے استعمال میں لانا درست ہوگا، جہاں تک حرام آمدنی کے صدقہ کا حکم ہے تو اس کا مصرف فقراء ہیں ، چنانچہ اگر سائل کا چچا واقعۃً مستحقِ زکوٰۃ ہو تو سائل کا والد اپنی تنخواہ اور الاؤنس میں سے حرام کے بقدر ان کو رقم صدقہ کرسکتے ہیں، تاہم اگر سائل کا والد حج کے لئے جانا چاہتا ہےاور حلال رقم حج کے اخراجات کے لئے کافی نہ ہوتو ایسی صورت میں کسی سے حلال رقم بطورِ قرض لے کر حج پر جاسکتا ہے،تاہم واپس آ کر حلال مال سے ہی قرض ادا کرنا شرعاً لازم ہے،حرام مال سے قرض ادا کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ حرام مال مستحقِ زکوۃ پر بلانیتِ صدقہ کرنا لازم ہے۔
کما فی مبسوط للسرخسی: (و حجتنا) في ذلك أن الحكم للغالب و إذا كان الغالب هو الحرام كان الكل حراما في وجوب الاجتناب عنها في حالة الاختيار اھ (10/197)۔
و فی رد المحتار: و الحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام لا يحل له و يتصدق به بنية صاحبه اھ (5/99)۔
و فی الفتاوی الھندیة: آكل الربا و كاسب الحرام أهدى إليه أو أضافه و غالب ماله حرام لا يقبل و لا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه و إن كان غالب ماله حلالا لابأس بقبول هديته و الأكل منها، كذا في الملتقط اھ (5/343)۔