السلام علیکم !
میں کالج میں لیکچرار ہوں ،میری تنخواہ جیسے ہی ہر مہینے میرے اکاؤنٹ میں آتی ہے میں اپنے شوہر کے اکاؤنٹ میں بھیج دیتی ہوں،میں آپ سسے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا میں اب اپنے شوہر کے پیسے ان سے بغیر پوچھے لے سکتی ہوں ؟ میں نے ان سے ایک بار اجازت لی تھی کہ میں اگر بغیر بتاۓ پیسے لے لوں تو مجھے اجازت دے دیں ،وہ مجھے زیادہ پیسے خرچ نہیں کرنے دیتے اس لئے مجھے کبھی کبھی ان کے پیسوں سے کچھ پیسے اٹھانے پڑھتے ہیں،میں ایسا کرنے سے گناہ گار تو نہیں ہونگی ؟ آج ایک واقعہ ہوا میں نے پیسے لے لیے تھے اور انہوں نے دیکھا تو مجھ سے پوچھا کہ پیسے کہاں ہیں؟ میں نے کہا کہ میں نے نہیں اٹھاۓ،اگر میں بتاتی تو وہ مجھ پر غصہ ہوتے ،مجھے اسکا حل بتا دیں پلیز ، اب میں انہیں سچ بھی نہیں بتا سکتی، اب میں کیا کروں ؟
واضح ہوکہ سائلہ کو ماہانہ جو تنخواہ ملتی ہے ،وہ اس کی ذاتی ملکیت ہے ،وہ اس میں جیسے چاہے جائز تصرف کرسکتی ہے ،چنانچہ اگر سائلہ مذکور تنخواہ اپنے شوہر کے اکاؤنٹ میں بطورِ امانت اور حفاظت کے بھیجتی ہو ،باقاعدہ مالکانہ طور پر شوہر کے اکاؤنٹ میں نہ بھیجتی ہو تو مذکور رقم سائلہ کی ملکیت ہے ،لہذا مذکور رقم استعمال کرنے کیلئے شوہر سے اجازت لینا شرعاً ضروری نہیں ،البتہ اگر شوہر کے مال میں سے بقدرِ ضرورت لینے کی سائلہ کو اجازت ملی ہو تو شوہر کو ہر بار بتانا شرعاً ضروری نہیں ،تاہم اگر پیسے لینے سے قبل یا بعد میں شوہر کو بتلا دیا جائے تو بہترہے ،اس میں غلط بیانی کرنا شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی اعلاء السنن:جاءت ھند الیٰ رسول اللہ ۔صلی اللہ علیہ وسلم ۔فقالت: یا رسول اللہ ! ان ابا سفیان رجل شحیح و لیس یعطینی من النفقۃ ما یکفینی و ولدی ، فقال : خذی ما یکفیک و ولدک بالمعروف (11/288)
و فی مجلۃ احکام العدلیۃ : کل یتصرف فی ملکہ کیفما شاء ،لکن اذا تعلق حق الغیر بہ فیمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الاستقلال (ص/230)