محترم جناب قبلہ مفتی صاحب السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !گذارش ہے کہ اگر کوئی مسلمان مال و دنیا کی لالچ میں مرتد ہو گیا، اور بعد میں ہدایتِ الٰہیہ سےپھر اسلام میں داخل ہو گیا، تو اب جو مالِ دنیا زمانۂ ارتداد میں اس نے کمایا، کیا وہ مال اب مسلمان ہونے کے بعد اپنی ذات پر خرچ کر سکتا ہے یا اسے خیرات کر سکتا ہے؟ رہنمائی فرمائیں! شکریہ
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص نے حالتِ ارتداد میں جو مال کمایا تو وہ مال اسکی ذاتی ملکیت ہے، وہ اس میں جیسے چاہے ,جائز تصرف کر سکتا ہے، چنانچہ مذکور مال اپنے استعمال میں بھی لا سکتا ہے، اور اللہ کے راستے میں بھی خرچ کر سکتا ہے۔
البتہ دنیوی عارضی مال و دولت کی خاطر دینِ اسلام کو چھوڑ دینا انتہائی خطرناک اور قابلِ افسوس و مذمت ہونے کے ساتھ ساتھ آخرت کی ہمیشہ کی زندگی میں عذابِ الہی میں اپنے آپ کو جھونکنا ہے، اس لئے مذکور شخص پر لازم ہے کہ اس گناہِ کبیرہ پر بصدقِ دل توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ آئندہ کیلئے دوبار ہ اس قسم کے کفریہ اعمال سے مکمل اجتناب کرے۔
کما فی الفقه الإسلامي و أدلته : و إذا افترضنا أن المرتد بعد لحاقه بدار الحرب ، عاد مسلماً إلى دار الإسلام . فإن كان قبل قضاء القاضي بلحاقه ، فماله على حاله ، و إن كان بعد القضاء ، فما وجد من ماله في يد وارثه فهو أحق به ، و يأخذه منه بطريق القضاء ؛ لأن حكم القاضي باللحاق صير المال ملكاً لورثة المرتد ، فلا يعود الملك له إلا بالقضاء أو بالتراضي۔اھ (7/5588)۔