السلام علیکم ! ایمازون پر لوگ کام کر رہے ہیں، مثلًا اس میں لوگ ان کے پراڈکٹس کو واٹس ایپ اور فیس بک گروپس میں شیئر کرتے ہیں ، اور جب کوئی کسٹمر وہ پراڈکٹ ایمازون سے خریدتا ہے، تو اس کی قیمت میں سے اس شئیر کرنے والے کو کمیشن ملتا ہے، آنلائن کاروبار کا یہ طریقہ شرعی طور پر جائز ہے ؟ رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ!
ہماری معلومات کے مطابق" ایفیلیٹ مارکیٹنگ "کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ جتنی بھی" ای کامرس ویب سائیٹس "ہوتی ہیں، یہ اپنا ایک ایفیلیٹ پروگرام متعارف کرواتی ہیں ، اس پروگرام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس پروگرام کے ممبر بن کر ان کے پروڈکٹ کی تشہیر کریں، جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جو لوگ ممبر بن جاتے ہیں ، وہ ان ویب سائٹ پر بیچی جانے والی اشیاء میں سے کسی چیز کا لنک تشکیل دیتے ہیں، اور یہ لنک اپنے متعلقین کو بذریعہ فیس بک یا واٹس ایپ وغیرہ بھیجتے ہیں ،چنانچہ جو لوگ اس لنک کے ذریعے متعلقہ ویب سائٹ پر جاکر اس کا وزٹ کریں، تو اس لنک کی تشکیل دینے والے کو اس چیز کی قیمت کا ایک مخصوص فیصد بطورِ کمیشن ملتا ہے ، مذکورہ بالا طریقہ شرعاً جائز ہے، اور اس میں لنک تشکیل دینے والے کی حیثیت اجیر کی ہے، یعنی اس کا کام ویب سائٹ پر بیچی جانے والی اشیاء کا لنک تشکیل دیکر لوگوں کو اس چیز کی خریداری کی طرف راغب کرنا ، اور مخصوص ویب سائٹ تک لیکر جانا ہے، لہذا اس صورت میں لنک تشکیل دینے والے کو جو کمیشن ملے گا، وہ اس کے لئے جائز ہوگا ، البتہ ضروری ہے کہ جتنا کمیشن ملا ہو ، وہ پہلے سے طے ہو ، اس میں کسی قسم کی جہالت نہ ہو ، نیز یہ تشہیر حرام پروڈکٹ کی نہ ہو، اور نہ ہی غیر شرعی امور پر مشتمل ہوں۔
کما فی رد المحتار : قال في البزازية : إجارة السمسار و المنادي و الحمامي و الصكاك و ما لا يقدر فيه الوقت و لا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة و يطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل اھ(6/ 479)۔
و فی الھندیۃ : و أما شرائط الصحة فمنها رضا المتعاقدين . و منها أن يكون المعقود عليه و هو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد و إلا فلا اھ (4/ 411)۔