کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نا جائز مقدّمات میں پھنسا ہوا ہے، مقدّمہ اس طرح ہے کہ پہلی بیوی کوکچھ وجوہات کی بنا پر علماء سے راۓ لے کر طلاق دی گئی ، دارالقضاء نے بھی طلاق ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا ہے ، اب پہلی بیوی نے مقدّمہ دائر کیا اور پیسوں کی مانگ کی ہے جس میں ماہانہ رقم اور الگ سے ایک رقم ہے، بقولِ علماء طلاق اور عدّت کے بعد بیوی کسی طرح کی رقم ماہانہ ہو یا ایک رقمی کی حقدار نہیں ہوتی ، مقدّمہ ابھی چل رہا ہے،اور پچھلے ٨ سال سے چل رہا ہے مقدّمہ مضبوط ہو اس کےلئے بہت ہی نچلے درجے کے اور جھوٹے الزامات لگاے گئے ہے، الحمد للہ ابھی تک کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ، لیکن ملک کے قانون کی وجہ سے ہر ماہ کچھ رقم (پوٹگی ) جمع کرنی پڑتی ہے جو کہ ظلم ہے ، اب مسئلہ یہ ہے کہ جس شخص پر مقدّمہ دائر ہے اسے ہر ماہ ایک رقم (جسے پوٹگی کہتے ہیں) کورٹ میں دینی ہوتی ہے اور ساتھ ہی وکیل اور دیگر سرکاری کاموں میں جگہ جگہ رشوت اور پیسے دینے پڑتے ہیں اس وجہ سے کمائی کا اکثر حصّہ اسی کورٹ کچہری ، سفر وغیرہ میں صرف ہوتا ہے ، اس شخص کی کمائی مختصر ہے جو کہ حلال کمائی سے آتی ہے اس لئے کچھ خیر خواہ حضرات نے یہ راۓ دی کہ علماء سے اس بارے میں پوچھیں کہ اگر یہ شخص ان ناجائز مقدّمات سے باہر آنے کے لئے بجائے اپنی حلال کمائی کے کچھ ایسی رقم جو کہ حلال نہ ہو جیسا کہ سود وغیرہ جو کہ بینک میں جمع ہوتا ہے استعمال کرے تو کیا وہ ایسا کر سکتا ہے ؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کچھ حضرات ماہانہ شئیر ٹریڈنگ کے ذریعے سے کمائی کرتے ہیں اور اس میں جائز نا جائز سب طریقے اختیار کرتے ہیں ،ایسے لوگ کچھ رقم لیتے ہیں جیسے ایک لاکھ روپے لیتے ہیں اور ماہانہ ٦٠٠٠ روپے یا کوئی مخصوص رقم یا اپنے منافع کا کچھ حصّہ دیتے ہیں اور اس میں ہم جب چاہیں تب اپنے ایک لاکھ ان سے مانگ سکتے ہیں ، تو کیا ایسی جگہ اپنی رقم لگا کر وہاں سے ملنے والی رقم کا استعمال مقدمات میں کر سکتے ہیں؟ اور اسی طرح سابقہ بیوی جو رقم (پوٹگی ) ماہانہ مانگ رہی ہے جو کہ ہر ماہ کورٹ میں جمع کرنی ہوتی ہے اسے ایسی رقم دی جاسکتی ہے؟ یہاں ایک بات ضروری ہے کہ ملک کے اکثر قوانین عورتوں کے حقوق کو سامنے رکھ کر بنائے گئے ہیں ، صحیح، غلط یا شریعت کے احکام کا کوئی پہلو کورٹ نہیں مانتا جس کی وجہ سے چاہے آپ پر گناہ ثابت ہو یا نہ ہو ،طلاق ہوئی ہو ، یا نہ ہوئی ہو ، مرد رقم بھرنے کے قابل ہو یا نہ ہو، ہر ماہ رقم(پوٹگی ) دینی ہی پڑتی ہے،جب تک وہ عورت دوسرا نکاح نہ کرے ،اگر آپ وہ رقم (پوٹگی ) نہ جمع کرینگے تو جیل کا آرڈر نکلتا ہے، گزارش ہے کہ اس بارے میں مکمّل رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ مالِ حرام کے متعلق اصل حکم تو یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم ہو تو یہ مال مالک کو لوٹاناضروری ہے، البتہ اگر مالک کو لوٹاناکسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو پھر بلانیتِ ثواب کسی مستحق کو صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کےلئے عدالتی مقدمات کے اخراجات کیلئے کوئی ناجائز معاملہ کرنایا بینک کی سودی رقم یا شئیر ٹریڈنگ کے ذریعے ناجائز طریقے سے کمائی ہوئی رقم کو صرف کرنا درست نہیں ، تاہم اگر سائل کی مطلقہ بیوی مستحق ہو تو اسے بلا نیتِ ثواب یہ رقم دی جاسکتی ہے ۔
کما فی فقه البيوع : أما في بيان القسم الأول ، نعبر عن جميع العقود الباطلة فيما يأتي بالمغصوب ، و الذى يقبض هذا المال الحرام بالغصب . و ذلك لسهولة التعبير ، و يشمل هذا التعبير كل مال حرام لا يملكه المرأ في الشرع ، سواء كان غصباً ، أو سرقة ، أو رشوة ، أو رباً في القرض ، أو مأخوذاً ببيع باطل . و إنه حرام للغاصب الانتفاع به ، أو التصرف فيه ، فيجب عليه أن يرده إلى مالكه ، أو إلى وارثه بعد وفاته ، و إن لم يمكن ذلك لعدم معرفة المالك أو وارثه ، أو لتعذر الرد عليه لسبب من الأسباب ، وجب عليه التخلص منه بتصدقه عنه من غير نية ثواب الصدقة لنفسه.(2/1006)۔
و فی الشامیۃ : و الحاصل : أنه إن علم أرباب الأموال و جب رده عليهم ، و إلا فإن علم عين الحرام لايحل له ، و يتصدق به بنية صاحبه .(5/99)۔