کیا فرما تے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:
میں ایک ٹھیکیدار ہوں ۔ پہاڑی پر پتھر فروخت کرنے والے آدمی سے میں نے بات کی کہ آپ کے پتھر خریدنے کےلئے میں ایک بندہ لا رہا ہوں ، اب مجھے کمیشن دیں گے ، پرافٹ مجھے دو روپیہ دیں گے ، پھر میں ایک ٹھیکیدار کو لے کر گیا پتھر خرید نے کےلئے اور ٹھیکیدار نے بھی کہا کہ میں اپنی خوشی سے آپ کو کچھ دوں گا، اور پتھر فروخت کرنے والے اور ٹھیکیدار دونوں کو پتہ ہے کہ میں کمیشن لوں گا، لیکن پتھر والے کے ساتھ فٹ کے حساب سے دو روپیہ مقرر کیا ، اور ٹھیکیدار نے کہا کہ میں اپنی خوشی سے دوں گا ، مقرر نہیں تھا ۔ تو کیا ہما را یہ معاملہ شرعا ً جائز ہے کہ نہیں ؟
واضح ہو کہ فروخت کننده اور خریدار دنوں سے کمیشن لینا اس شرط کے ساتھ جا ئز ہے کہ خرید و فروخت کا معاملہ فریقین خود طے کریں اور کمیشن ایجنٹ کا کام ان کے درمیان صرف واسطہ بننے اور سہولت کاری کا ہو ، اور اس کا کمیشن بھی باقاعدہ طور پر طے شدہ ہو، البتہ اگر وہ کسی ایک جانب سے وکیل بن کر خود عقد کر رہا ہو، تو اس صورت میں وہ جس کا وکیل ہوگا صرف اسی سے کمیشن وصول کر سکتا ہے ، اس کےلئے دوسری جانب سے کمیشن کا مطالبہ کرنا جائز نہیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کا کردار پہاڑ پر پتھر فروخت کرنے والے اور ٹھیکیدار کے درمیان محض سہولت کاری ہو اور وہ جانبین میں سے کسی کی طرف سے وکیل بن کر معاملہ نہ کر رہا ہو ، تو ایسی صورت میں اس کا دونوں جانب سے کمیشن لینا جائز ہے ، تاہم اسے چاہیئے کہ جس طرح فروخت کرنے والے کی جانب سے کمیشن طے کیا ہے ، اسی طرح خریدار (ٹھیکیدار) سے معاملہ کرتے وقت کمیشن طے کر لے ، اس طرح متعین اور طےشدہ اجرت کے بغیر معاملہ شرعاً درست نہیں ہوگا ، جس سے احتراز چاہیئے۔
كما في سنن أبي داود : عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الصلح جائز بين المسلمين زاد أحمد إلا صلحاً أحل حراما أو حرم حلالا و زاد سليمان بن داود و قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : المسلمون على شروطهم (ج 5، ص 446، رقم : 3594، ط : دار الرسالة العالمية)-
و في المبسوط للسرخسي : و إذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا (إلى قوله) فإن كان يتراضيان بينهما و لم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم أتما العقد عليه فهو جائز الخ ( باب البيوع الفاسدة ، ج ۱۳ ، ص 8 ، ح : مطبعة السعادة ، مصر )-
و في الدر المختار : وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية الخ(كتاب البيوع ، ج 4، ص 560، ط : سعید)-
و في رد المحتار : تحت (قوله : فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين الخ (فرع ظهر بعد نقد الصراف أن الدراهم زيوف، ج 4، ص 560، ط : سعید)-
و فيه أيضا : تحت (قوله مع الماء) و في الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال أرجو أنه لا بأس به و إن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل و كثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام الخ (مطلب في أجرة الدلال ، ج 6، ص 63، ط : سعید)-
و في خلاصة الفتاوى : و في الأصل أجرة السمسار و المغادي و الحمامي و الصكاك و ما لا تقدير فيه للوقت ولا مقدار لما يستحق بالعقد ، للناس فيه حاجة جاز و إن كان في الأصل فاسد الخ ( كتاب الإجارات ، الفصل الثاني في صحة الإجارة و فسادها ، ج 3 ، ص 116 ، ط : رشيدية )-