میرا اکاؤنٹ بینک میں ہے، جس پر سال میں دوبار انٹرسٹ آتا ہے، جو حرام ہے، اگر میں وہ رقم بینک کو وآپس کروں تو وہ پاکستان گورنمنٹ کے بجائے بینک نظام اسرائیل کو جاتا ہے، کیا میں وہ پیسہ پاکستان میں کسی ضرورت مند کو دے سکتا ہوں بنا کسی ثواب کی امید کے اللہ سے؟
واضح ہوکہ سودی بینک کے ایسے کھاتے (اکاؤنٹ)میں رقم رکھوانا، جس پر سود دیا جاتا ہے ، قطعاً ناجائز اور حرام ہے ،لہذا سائلہ کے لئے کسی سودی بینک کے ایسے اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا جائز نہیں، چنانچہ سائلہ کو چاہئیے کہ ایسے اکاؤنٹ کو ختم کرکے مستند مفتیان کرام کی زیر نگرانی اپنے معاملات سر انجام دینے والے کسی غیر سودی بینک میں اکاؤنٹ کھلوادے، تاہم ابھی تک سائلہ کو جو رقم ملی ہے وہ بلا نیت ثواب کسی مستحق اور ضرورت مند شخص کو دی جاسکتی ہے۔
کما فی الصحیح للمسلم: عن جابر قال: « لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء (رقم الحدیث: 1598، ج5،ص 50، ط:دار الطباعۃ)۔
وفی معارف السنن: قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقھائنا "کالھدایۃ" وغیرھا ان من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الرد الی المالک فسبیلہ التصدق عل الفقراء الخ (ج1 صـ34 ابواب الطھارۃ ط: سعید)۔