میں ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہوں، میں نے اپنی اسٹیمپ ایک ٹریفک والے کو دی ہے، تاکہ وہ میڈیکل فٹنس سرٹیفیکٹ پر اسٹیمپ لگائے اور مجھے اس کا کمیشن دیا کرے، میڈیکل فٹنس ڈرائیونگ لائسنس کے لئے ضروری ہوتا ہےاور میرا دوست اسی بندے کی فٹنس پاس کرتا ہے جو نارمل ہو، کیا میرا اس سے کمیشن لینا جائز ہے؟ ایسی صورت میں عوام کو بھی فائدہ ہوجاتا ہے۔
واضح ہو کہ میڈیکل فٹنس کے لیے اپنا اسٹیمپ استعمال کرنے کی اجازت دینا کوئی ایسی چیز نہیں جسے کرایہ یا کمیشن پر دیا جائے بلکہ یہ ایک تصدیق اور اجازت نامہ ہے جو حکومت کی طرف سے متعلقہ شخص کو مطلوبہ تعلیم پر مشتمل کورس کی تکمیل اور مہارت کے حصول کے بعد دیا جاتا ہے ، لہٰذا سائل کا یہ عمل اور اس پر کمیشن لینا ہر دو امور قانوناً و شرعاً ممنوع ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
و فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا فقال: «ما هذا يا صاحب الطعام؟» قال أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس، من غش فليس مني» (1/99)۔
كما في بحوث فى قضايا فقهیۃ معاصرة: هل يجوز لحامل رخصة الإيراد او الإصدار أن يبيع هذه الرخصة إلى تاجر آخر؟ (الى قوله) ولكن كل ذلك انما ياتي اذا كان في الحكومة قانون يسمح بنقل هذه الرخصة الى رجل آخر اما اذا كانت الرخصة باسم رجل مخصوص أو شركة مخصوصة ولا يسمح القانون بنقلها الى رجل آخر أو شركة أخرى فلا شبهة فى عدم جواز بيعها لأن بيعها يؤدي حينئذ إلى الكذب والخديعة فان مشترى الرخصة يستعملها باسم البائع لا باسم نفسه فلا يحل ذلك الا بأن يوكل حامل الرخصة بالبيع والشراء اھ(115/1)