نجاسات اور پاکی

غیرمسلموں کو قرآن دینے کا حکم

فتوی نمبر :
79014
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / پاکی و ناپاکی کے احکام / نجاسات اور پاکی

غیرمسلموں کو قرآن دینے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! ہم گزشتہ ہفتہ کے دن مولانا ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب دامت برکاتہ کا بیان سننے کے لئے گورنر ہاؤس گئے ، ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کے بیٹے نے اپنے بیان میں یہ بات فرمائی کہ ہمیں قرآن مجید غیر مسلموں کو دینا چاہئے تاکہ وہ اسے پڑھ کر متأثر ہوں، اور اگر ہم ان کو قرآن پاک نہیں دیں گے، تو وہ کیسے متأثر ہوں گے، اور یہ بھی فرمایا کہ یہ آیت " لایمسہ الا المطھرون"ہے یہ اس قرآن مجید کے متعلق ہے جو لوح محفوظ میں ہے، تو کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا غیر مسلموں کو قرآن مجید دینا جائز ہے یا ناجائز، اور کیا یہ آیت " لایمسہ الا المطھرون" منقوش قرآن مجید کے متعلق ہےیا اس قرآن مجید کے متعلق جو لوح محفوظ میں ہے؟ جو اب بحوالہ تحریر فرمائیں، جزاک اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مذکور آیت "لایمسہ الا المطہرون"کی تشریح جمہور فقہاء امت نے یہ کی ہےکہ اگر قرآن سےمراد وہ لوح محفوظ والا قرآن ہوجو کہ عالم بالا میں موجود ہے، تو اس آیت کامعنی یہ ہے کہ "اس قرآن کونہیں چھوتے مگر پاک مخلوق یعنی (فرشتے) چھوتے ہیں"جوکہ پاک مخلوق ہے اور وہ ہر قسم کی انجاس و گندگی سے مبرہ وپاک ہیں، البتہ اگر اس سے مراد ہمارے ہاتھوں میں موجود قرآن (جوکہ مصحف کی صورت میں موجود ہے) ہو، تو اس کا معنیٰ یہ ہے کہ" اس قرآن کو نہیں چھوتے مگر پاک لوگ"چنانچہ اگر انسان پاک صاف ہوکر شرعی طہارت حاصل کرلے، تو وہ اس مصحف کو جو ہمارے ہاں موجود ہے، اٹھا سکتا ہے،لہذا اگرکوئی انسان طہارت شرعی حاصل کرلینے کے بعد قرآن کو اٹھا تا ہے ، تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، بغیر طہارت شرعیہ کے اس مصحف کو ہاتھ لگانا شرعاً جائز نہیں، اس بات پر تمام امت کا اتفاق ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں۔
جبکہ کسی کافر کے چھونے کے بارےمیں یہ تفصیل ہے کہ بغیرطہارت کے اس کا چھونا بالکل جائز نہیں، البتہ اگر وہ غسل کرلے اور امید ہو کہ اسے چھو کر یا پڑھ کر سیدھا ( یعنی ہدایت والا) راستہ اختیار کرے گا، تو اس صورت میں امام محمدؒ کے قول پر عمل کرتے ہوئے اسے چھونے وغیرہ کی اجازت دے سکتے ہیں، البتہ دیکھنے والے کو چاہیے کہ اگر اسے یقین ہو کہ یہ چھونے والابے وضو ہے یا کافر ہے اور اس نے غسل نہیں کیا تو انہیں چھونے سے روکے اور منع کرے اور اس کے فضائل بیان کر کے انہیں غسل پر آمادہ کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص: قال أبو بكر إن حمل اللفظ على حقيقة الخبر فالأولى أن يكون المراد القرآن الذي عند الله والمطهرون الملائكة وإن حمل على النهي وإن كان في صورة الخبر كان عموما فينا وهذا أولى لما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في أخبار متظاهرة أنه كتب في كتابه لعمرو بن حزم ولا يمس القرآن إلا طاهر، فوجب أن يكون نهيه ذلك بالآية إذ فيها احتمال له آخر سورة الواقعة الخ (ج5 صـ300 ط: دار احیاء التراث العربی)۔
وفی تفسیر مظھری: تحت ھذہ الآیۃ، لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ، وقد انعقد الإجماع على انه لا يجوز مس المصحف للجنب والحائض ولا لنفساؤ لا لمحدث الخ(ج9 ص181 سورۃ الواقعۃ آیۃ 79 ط مكتبة الرشدية)۔
وفی مؤطا امام مالک: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ (1)؛ أَنَّ فِي الْكِتَابِ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللهِ [ش: 55] لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ: أَنْ لاَ يَمَسَّ الْقُرَآنَ إِلاَّ طَاهِرٌ.(2/278 رقم 680 الْأَمْرُ بِالوُضُوءِ لِمَنْ مَسَّ الْقُرْآنَ)۔
وفی سنن دارقطنی: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا السَّيْفَ , فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ خَتْنَكَ وَأُخْتَكَ قَدْ صَبَوْا , فَأَتَاهُمَا عُمَرُ وَعِنْدَهُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُقَالُ لَهُ: خَبَّابٌ , وَكَانُوا يَقْرَؤُونَ طه , فَقَالَ: أَعْطُونِي الْكِتَابَ الَّذِي عِنْدَكُمْ أَقْرَأَهُ وَكَانَ عُمَرُ يَقْرَأُ الْكِتَابَ , فَقَالَتْ لَهُ أُخْتُهُ: إِنَّكَ رِجْسٌ، وَلَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ , فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ، فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ فَقَرَأَ طه "(1/222 رقم 441 مؤسسة الرسالة، بيروت)۔
وفی الدرالمختار: ويمنع النصراني من مسه، وجوزه محمد إذا اغتسل ولا بأس بتعليمه القرآن والفقه عسى يهتدي.الخ (1/177 سنن الغسل ط سعید)۔
وفی حاشية ابن عابدين: وفي الخانية الحربي أو الذمي. (قوله: من مسه) أي المصحف بلا قيده السابق. (قوله: وجوزه محمد إذا اغتسل) جزم به في الخانية بلا حكاية خلاف. قال في البحر: وعندهما يمنع مطلقا. (1/ 177)-
وفی البحر الرائق: وفي الذخيرة إذا قال الكافر من أهل الحرب أو من أهل الذمة: علمني القرآن فلا بأس بأن يعلمه ويفقهه في الدين قال القاضي علي السغدي إلا أنه لا يمس المصحف فإن اغتسل ثم مسه فلا بأس به الخ (8/232 بيع بناء بيوت مكة أو أراضيها فصل في البيع ط سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 79014کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات