میں اسلامی تعلیمات پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن میں محسوس کرتا ہوں کہ میرے اردگرد کا ماحول، بشمول کام کی جگہوں اور معاشرہ، اکثر اسلامی اقدار کے مطابق نہیں ہوتا، Ibex کے Walmart مہم پر ایک پوزیشن پر غور کرتے ہوئے، میں جانتا ہوں کہ بطور CSR ایجنٹ، میری ذمہ داری بنیادی طور پر صارفین کو ان کے آرڈرز کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہوگی، جیسے کہ آرڈر کی تفصیلات، ریٹرن یا ریفنڈز کا عمل، آرڈرز کو منسوخ کرنا، غیر دستیاب اشیاء کے لیے موزوں متبادل تجویز کرنا، اور ان مصنوعات کے بارے میں معلومات فراہم کرنا جن سے صارف واقف نہ ہو، اگرچہ ان میں سے زیادہ تر کام سیدھے سادے ہیں، میں اس بات کے بارے میں غیر یقینی ہوں کہ اگر میں کچھ اشیاء، جیسے کہ شراب، انشورنس پلان، موسیقی کے آلات، اور دیگر ممکنہ طور پر حرام اشیاء کے لیے مدد فراہم کروں، تو کیا یہ میری آمدنی کے جواز پر اثر ڈالے گا، کیونکہ Walmart ایک بڑا سپرمارکیٹ چین ہے، جو عام طور پر یورپ میں استعمال ہونے والی مصنوعات کی ایک وسیع رینج فروخت کرتا ہے، بعض اوقات مجھے صارفین کو SquareTrade جیسی انشورنس کمپنیوں کی طرف بھیجنا پڑ سکتا ہے، اگرچہ میں براہ راست انشورنس فروخت میں شامل نہیں ہوں گا، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بالواسطہ معاونت بھی میرے کردار اور آمدنی کو حرام بنا سکتی ہے؟ آج کے دور میں حرام عناصر سے بچنا، حتیٰ کہ ان صنعتوں میں بھی جو بظاہر حلال ہیں، انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب سائٹ ڈیولپمنٹ، اور اسی طرح کے دیگر شعبوں میں، میں اکثر موسیقی، بے پردہ خواتین پر مشتمل اشتہارات، اور حرام مصنوعات جیسے مسائل کا سامنا کرتا ہوں، جو ایک ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جہاں اسلامی اصولوں پر عمل کرنا مشکل لگتا ہے، میرے پسندیدہ علماء، جیسے کہ شیخ عاصم الحکیم، اکثر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ دور کی بہت سی ملازمتوں میں حرام عناصر شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان چیزوں سے مکمل طور پر بچنا تقریباً ناممکن محسوس ہوتا ہے، کیونکہ معاشرہ آج کے اکثر اسلامی تعلیمات کو نظرانداز کرتے ہیں، گناہ کے کاموں سے بچنے کی اپنی بھرپور کوششوں کے باوجود، میں الجھن اور مایوسی کا شکار ہوں، اور اس بات پر غیر یقینی ہوں کہ ان حالات میں حلال آمدنی کیسے حاصل کی جائے، میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ میں اپنی آمدنی کو ان اثرات کے درمیان کیسے حلال رکھ سکتا ہوں، اگر میرے کام کا زیادہ تر حصہ حلال ہے، لیکن اس میں کچھ معمولی حرام پہلو شامل ہیں، جیسے کہ کبھی کبھار رہن کے بارے میں بات چیت کرنا یا انشورنس کے سوالات کو آگے بڑھانا، تو کیا یہ میری پوری آمدنی کو حرام بنا دے گا؟ اگر میں بطور Walmart CSR عمومی مدد فراہم کروں اور کبھی کبھار حرام مصنوعات یا انشورنس سے متعلق سوالات میں مدد فراہم کروں، حالانکہ میں براہ راست ملوث نہیں ہوں، تو کیا اس سے میری آمدنی خراب ہو جائے گی؟ ایک ایسی دنیا میں جہاں زیادہ تر کام کی جگہیں اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں، میں رہنمائی کا طلبگار ہوں کہ اپنی دینی وابستگی کو موجودہ دور کے کام کے حالات کے ساتھ کیسے ہم آہنگ کروں؟
سائل کو جلد از جلد کسی جائز اور حلال ذریعہ آمدن کو اختیار کرنیکی پوری کوشش کرنی چاہیے، کہ جس میں حرام اور ناجائز کاموں میں کسی طرح کی بھی معاونت نہ ہو، البتہ جب تک کوئی اور مکمل جائز ذریعہ آمدن میسر نہ آئے تب تک مذکور ملازمت جاری رکھی جاسکتی ہے، البتہ حرام کاموں کی تعمیل سے حتی الامکان اپنے آپ کو بچانے کی اور متعلقہ افسران اور منیجرز سے اس حوالہ سے بات کر کے صرف جائز ذمہ داریوں کو سر انجام دینے کی کوشش کرنی چاہیے، تاہم اگر پھر بھی مجبوراً حرام اور ناجائز کام کرنا پڑجائے، تو ایسی صورت میں سائل کی پوری تنخواہ حرام نہ ہوگی، بلکہ حرام اور ناجائز کاموں کے بقدر ملنے والی تنخواہ حرام اور ناجائز ہوگی، جس پر بصدق دل توبہ واستغفار اور اس کے بقدر ملنے والی تنخواہ صدقہ کرنا سائل پر لازم ہوگا۔
قال اللہ تعالی: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (سورۃ المائدۃ ایۃ 2 )۔
وفی سنن ابن ماجہ: سمعت أنس بن مالك، أو حدثني أنس، قال: " لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، والمعصورة له، وحاملها، والمحمولة له، وبائعها، والمبيوعة له، وساقيها، والمستقاة له، حتى عد عشرة، من هذا الضرب "(2/1122 رقم 3381 باب لعنت الخمر علی عشرۃ اوجہ )۔
وفی الدرالمختار: (ولا يجوز بيعها) لحديث مسلم «إن الذي حرم شربها حرم بيعها»الخ (6/449 كتاب الأشربة ط سعید)۔
وفی ردالمحتار: تحت ((قوله كما بسطه الزيلعي) حيث قال لأنه كالمغصوب وقال في النهاية: قال بعض مشايخنا: كسب المغنية كالمغصوب لم يحل أخذه، وعلى هذا قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ الخ (6/385 فصل في البيع ط سعید)۔