مفتی صاحب! پوچھنا یہ ہے کہ اگر میں نماز ، جماعت کے ساتھ ادا کرلوں اور بعد میں پتہ چلے کہ کپڑے ناپاک تھے ، تو کیا نماز کی قضاء کرنا ضروری ہے یا نماز ادا ہوگئی ہے؟
اگر یہ ناپاکی پھیلاؤ میں درہم کی مقدار سے کم تھی ، تب تو نماز ادا ہوگئی ہے، لوٹانے کی ضرورت نہیں ، ورنہ اس کی قضاء لازم ہے۔
فی الفتاوى الهندية : النجاسة إن كانت غليظة و هي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة و الصلاة بها باطلة و إن كانت مقدار درهم فغسلها واجب و الصلاة معها جائزة و إن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة اھ (1/ 58)۔