السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
گزارش ہے کی میں پراپرٹی ڈیلر ہوں، رہنمائی فرمائیں!
مالک اپنی پراپرٹی مثال کے طور پر 20 لاکھ کی بیچ رہا ہے۔ مالک نے ایک ڈیلر کو وکیل بنا دیا اور یہ ڈیلر اب مالک کی طرف سے معاملہ دیکھ رہا ہے۔ کیا کو ئی شخص اس چیز کو مالک کی اجازت سے یا مالک تک رسائی نہ ہو ،تواصل مالک کی وکیل ڈیلر کی اجازت سے 20 لاکھ سے زائد پر بیچ سکتا ہے ، اس شرط پر 20 لاکھ مالک کا اور20 لاکھ سے زائد اوپر جتنا بھی وہ اس بیچنے والے ڈیلر کا ہو گا۔ کیا ایسا کرنا جائز ہو گا؟
نوٹ فرمائیں: اکثر و بیشتر اصل مالکان تک وکیل ڈیلر نہیں پہنچنے دیتے، سارے معاملہ وکیل ڈیلر مالکان سے پوچھ کر بتا دیتے ہیں۔ راہ نمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ!
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق کمیشن کی رقم متعین کیے بغیر اس طور پر پراپرٹی فروخت کرنا کہ مالک کی مطلوبہ رقم سے زائد رقم فروخت کرنے والے وکیل کی ہوگی شرعاً جائز نہیں ، البتہ اگر کمیشن کی رقم متعین کردی جائے ،تو مالک یا مالک کی جانب سے مقرر کردہ وکیل ڈیلر کی اجازت سے اس متعینہ کمیشن کے عوض پراپرٹی کو مالک کی مقرر کردہ قیمت بیس( 20) لاکھ سے زائد قیمت پر فروخت کرنا بھی شرعا جائز ہوگا، لیکن اس صورت میں بھی زائد رقم کا حقدار بھی مالک ہی ہوگا ، فروخت کرنے والے وکیل یا ڈیلر کے لیے مالک کی اجازت کے بغیر یہ اضافی رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہ ہوگا۔
کما فی النتف في الفتاوى: والخامس اجارة السمسار لايجوز ذلك وكذلك لو قال بع هذا الثوب بعشرة دراهم فما زاد فهو لك وان فعل فله اجر المثل
ولو استأجر السمسار شهرا ليبيع له أو ليشتري بكذا من الاجر جاز ذلك اھ (اجارة السمسار ج:2 ص:575 ناشر: مؤسسة الرسالة - بيروت)