میں ایک سرکاری محکمہ میں کنٹریکٹ پر کام کرتا ہوں۔ پچھلے 2 سال سے میری تنخواہ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ،جو کہ عام طور پر ہر ادارے میں سالانہ ہوتا ہے۔میرے سے نچلے سٹاف کی بھی تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا ،لیکن میرے بار بار درخواست دینے پر بھی شنوائی نہیں ہورہی ۔میرے پاس روزانہ قریباً لاکھ روپے کیش آتا ہے جو میں نے جمع کروانا ہوتا ہے۔تو کیا میں اس میں سے صرف اپنی مطلوبہ رقم نکال سکتا ہوں جوکہ ماہانہ قریباً 15 ہزار بنتی ہے؟
مذکور محکمہ کی انتظامیہ نے ملازمت سے قبل سائل سے ہر سال تنخواہ میں اضافہ کا معاہدہ کیا ہو، تو محکمہ کی انتظامیہ کو چاہیئے کہ حسب معاہدہ وہ سائل کی تنخواہ میں اضافہ کا اہتمام کرے ، اور اس کے لیے سائل ان سے درخواست کےعلاوہ دیگر جائز طریقے مثلا کسی بڑے کی سفارش وغیرہ بھی اختیار کرسکتا ہے، مگر محکمے کی طرف سےاضافہ نہ کرنے کی صورت میں سائل کا خود اپنی مرضی سے محکمہ کی رقم سے اضافہ کے بقدر رقم لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہےاس لیےاس سےاحتراز لازم ہے۔
کما فی الاشباہ والنظائر مع شرحه للحموی: الخلف فی الوعد حرام قال السبکی ظاہر الآیات والسنة تقضی وجوب الوفاء الخ (3 /236)
و فی الفقه الاسلامی: فلو وعد شخص غیرہ ببیع أو قرض أو ھبة مثلاً لاتجبر علی الوفاء بوعدہ بقوۃ القضاء بل یندب له تنفیدہ دیانة الخ (4/ 90)