آمدنی و مصارف

غیر مسلم ممالک میں فوڈ دیلیوری کا حکم

فتوی نمبر :
82495
| تاریخ :
2025-05-03
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

غیر مسلم ممالک میں فوڈ دیلیوری کا حکم

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

معاملات سے متعلق تفصیلی سوال ہے۔

سعد پاکستان میں مقیم۔ ایجنٹ عرفان رومانیہ میں موجود۔
سعد کا عرفان کے بھائی سے رابطہ ہوا اور اس نے سعد کو بتایا کہ اس کا بھائی عرفان رومانیہ میں مقیم ہے اور وہ آپ کو وہاں کسی کمپنی سے کام کے لیے ویزا دلوا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سعد سے معاہدہ ہوا کہ مخصوص رقم کو دو اقساط میں ادا کیا جائے۔ ایک قسط ایڈوانس اور ایک ویزا لگنے کے بعد اور اس دوران ویزا کے متعلق اخراجات اور ٹکٹ کا انتظام عرفان اس رقم سے کرے گا۔ بہر حال عرفان اور اس کے بھائی نے اخراجات پورے نہ ہونے کا کہہ کر پھر بھی مزید رقم وصول کی۔اس دوران عرفان اور سعد کا کبھی آپس میں رابطہ نہ ہوا، بلکہ عرفان کا بھائی ہی دونوں کے درمیان پیغام رسانی کرتا تھا۔ آخر میں ویزا مل جانے کے بعد عرفان نے سعد سے رابطہ کیا۔ اور پھر وہی اخراجات بڑھ جانے کا بتایا اور مزید رقم کا مطالبہ کیا کہ کمپنی کو ادا کرنی ہے۔ اس کے لیے یہ کہا گیا کہ آپ رومانیہ میں آ کر بعد میں دے دینا، جس کے لیے سعد نے منع کر دیا تو عرفان نے کہا اچھا ٹھیک ہے آپ کو یہاں مزید ادائیگی کی ضرورت نہیں۔

کام کی نوعیت کے متعلق سعد نے کہا تھا کہ ڈلیوری سروس کے علاوہ کوئی بھی ٹیکنیکل کام ہو یا لیبر کا بھی ہو تو کر لوں گا۔

رقم کی پہلی قسط وصول کرنے کے بعد غالبا عرفان نے کمپنیوں سے ویزا لینے کی کوشش کی جس کے متعلق وقتاً فوقتاً بتاتا کہ ہاں فلاں کمپنی سے بات ہوئی اور آپ کے لیے فلاں کام ہوگا۔ لیکن دو تین مرتبہ کام تبدیل کرنے کے بعد بتایا کہ آپ کے لیے کوریئر کمپنی سے ویزا مل رہا ہے اور یہ کمپنی خود کام کر رہی ہے۔
اس سے سعد نے سمجھا کہ کوریئر کمپنی سامان اور پارسل سروس کی ہوگی اور عرفان سے بھی پوچھا مگر ہمیشہ مبہم جواب ملا۔
اس کمپنی کے معاہدے میں کام کے اوقات اور تنخواہ کے علاوہ رہائش بھی کمپنی کی طرف سے تھی۔

مختصر یہ کہ سعد رومانیہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ کمپنی کو سعد نے رقم خود ادا کرنی ہے، جو رقم عرفان نے وصول کی وہ خود رکھ لی اور کمپنی سے کہا کہ سعد یہاں پہنچ کر آپ کو ادا کرے گا۔ ہے (عرفان نے ادا کرنے کا کہا تھا، مگر سعد کے انکار پر مان گیا کہ مزید ادائیگی کی ضرورت نہیں۔)

اس کے علاوہ کمپنی کے کام کا طریقہ یہ ہے کہ یہ کمپنی خود ایک ایجنسی ہے اور ایک اور بڑی کمپنی کے ساتھ بطور معاون ہے اور سعد کو کام اس کمپنی کے ساتھ فوڈ ڈلیوری کاکام کرنا ہو گا۔ اور جو بھی کمائی ہو گی وہ ایجنسی کے اکاؤنٹ میں جائے گی۔
اس میں سے ایجنسی اپنا کمیشن اور اپنی کمپنی کا ٹیکس بھی اور رہائش اور گاڑی جو کام کے لیے دی گئی ہے اس کا بھی کرایہ الغرض تمام اخراجات نکال کر جو رقم بچے گی وہ بطور تنخواہ / کمیشن کے سعد کو دے گی۔ الغرض کہ اپنی ایجنسی کو خود کما کر دینا ہے اس کے بعد جو اضافی رقم ہو گی اس میں سے حصہ ملے گا۔


اس کام میں سعد کو مسئلہ یہ ہے کہ ہر قسم کا سامان پہنچانا پڑتا ہے جس میں ہوٹل سے کھانا۔ سٹور سے متفرق سامان اور کوئی بھی آرڈر۔ اس میں سب سے زیادہ کھانے کے آرڈر ہوتے ہیں۔ اکثر معلوم نہیں ہوتا کہ سامان میں خنزیر کا گوشت بھی ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اشیاء بھی حلال نہیں ہوتی۔
سوال 1 ) یہ ہے کہ بعض اوقات سعد آرڈر کینسل کر سکتا ہے۔ اگر معلوم ہو کہ شراب یا خنزیر شامل ہیں تو سعد کینسل کر دیتا ہے۔ دیگر آرڈر جس میں معلوم نہ ہو کہ کیا اجزاء شامل ہیں، ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

اس وقت معاملہ یہ ہے کہ جب تک سعد کے کاغذات مکمل نہیں ہو جاتے تب تک کسی اور جگہ کام بھی نہیں کر سکتا۔

سوال 2 ) موجودہ ڈلیوری والے کام سے ہونے والی آمدنی اگر رومانیہ کی کرنسی کے مطابق 4,200 - 4,500 رون ہو تو وہ صرف ایجنسی کا کمیشن اور ایجنسی کے اخراجات پورے ہوتے ہیں یعنی سعد کو کچھ حصہ نہیں ملتا۔

اس صورت میں سعد کو کتنا کام کرنا چاہیے؟ صرف اتنا جس میں ایجنسی کا حصہ پورا ہو۔ اور سعد اپنا کھانا پینا اور اخراجات قرض سے کرے۔

یا سعد اتنا کام کر لے جس میں ایجنسی کے اخراجات کے علاوہ اپنا بنیادی خرچ نکال سکے۔

یا پھر اگر یہ کمائی مطلقاً حرام ہے تو سعد ایجنسی کو بھی قرض لے کر رقم ادا کرے ؟
سوال 3 ) اگر سعد ایجنسی سے بات کر لے کہ میں مزید آپ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتا۔ اور معاہدہ ختم کرنے کے لیے ایجنسی رقم کا مطالبہ کرے کہ اخراجات یا کسی بھی مد میں کہ اتنی رقم ادا کر کے سعد کسی اور جگہ کام کر سکتا ہے۔ اس صورت میں اس کام میں اگر کسی حد تک گنجائش ہے تو سعد اسی کام سے کمائی کر کے وہ رقم ادا کرے اور دوسری جگہ کام تلاش کر لے؟
اس صورتحال میں شرعی طور پر رہنمائی فرمائیں اور اگر کوئی اضافی سوال ہو تو اس کا بھی بتا دیں۔
جزاک اللّٰہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا اگر مذکور کمپنی سے فوڈ ڈیلیوری کا معاہدہ ہوا ہواور سائل فوڈ ڈیلیوری میں زیادہ تر حلال اشیاء لوگوں کے گھروں تک پہنچاتا ہو، تو ایسی صورت میں اس کے لئے فوڈ ڈیلیوری کی ملازمت اور اس پر ملنے والا معاوضہ حلال ہوگا، البتہ اگر کبھی اسے حرام اشیاء بھی گھروں تک پہنچانی پڑتی ہوں، تو اولا سائل کو چاہیےکہ حتی الامکان حرام چیزوں کی ڈیلیوری سے اجتناب کیا کرے، (جیسا کہ سائل کے بقول کہ وہ کینسل کردیتا ہے ) اسی طرح اگر ممکن ہو تو متعلقہ ادارے کو مطلع کرکے حرام اشیاء کی ڈیلیوری کی ذمہ داری کسی دوسرے کی طرف منتقل کرے، البتہ اس کے باجود بھی اگر کبھی کبھار ایسا کرنا پڑجائے، تو اس عمل پر توبہ و استغفار بھی کرتا رہے، اور حرام اشیاء کی ڈیلیوری اور سپلائی کے عوض جتنا معاوضہ حاصل ہوا ہو، اتنی رقم صدقہ کیا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی احکام القرآن للجصاص: وقوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى} ‌يقتضي ‌ظاهره ‌إيجاب التعاون على كل ما كان طاعة لله تعالى; لأن البر هو طاعات الله. وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الأثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى اھ (البیان من اللہ تعالی علی الجوھین، ج: 2، ص: 381، ط: دارالکتب العلمیہ)
وفی سنن ابی داؤد: عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌إن ‌الله ‌حرم ‌الخمر وثمنها، وحرم الميتة وثمنها، وحرم الخنزير وثمنه اھ (باب فی ثمن الخمر والمیتۃ، ج: 3، ص: 279، ط: المکتبۃ العصریہ)
وفیہ ایضا: عن جابر بن عبد الله، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح وهو بمكة: «‌إن ‌الله ‌حرم ‌بيع الخمر والميتة، والخنزير، والأصنام» فقيل يا رسول الله أرأيت شحوم الميتة فإنه يطلى بها السفن ، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس، فقال: «لا هو حرام»، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: «قاتل الله اليهود، إن الله لما حرم عليهم شحومها أجملوه ثم باعوه فأكلوا ثمنه اھ (باب فی ثمن الخمر والمیتۃ، ج: 3، ص: 279، ط: المکتبۃ العصریہ)
وفیہ ایضا: «رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌جالسا ‌عند ‌الركن قال: فرفع بصره إلى السماء فضحك، فقال: لعن الله اليهود ثلاثا؛ إن الله تعالى حرم عليهم الشحوم فباعوها، وأكلوا أثمانها، وإن الله تعالى إذا حرم على قوم أكل شيء حرم عليهم ثمنه»، ولم يقل في حديث خالد بن عبد الله الطحان: رأيت، وقال: قاتل الله اليهود اھ (باب فی ثمن الخمر والمیتۃ، ج: 2، ص: 271، ط: المکتبۃ العصریہ)
وفی بدایۃ المجتھد: القسم الأول: وهذا القسم ‌النظر ‌فيه ‌في جنس الثمن، وجنس المنفعة التي يكون الثمن مقابلا له، وصفتها، فأما الثمن: فينبغي أن يكون مما يجوز بيعه، وقد تقدم ذلك في باب البيوع، وأما المنفعة: فينبغي أن تكون من جنس ما لم ينه الشرع عنه اھ (القسم الاول فی انواع الاجارات، ج: 4، ص: 6، ط: دارالحدیث قاھرۃ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 82495کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • صدقہ کی چیز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
Related Topics متعلقه موضوعات