کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے متعلق :
ایک شخص کے دو بھائی ہیں، زید اور عمرو اور والد خالد اس کے یہاں جوائنٹ فیملی کا نظام ہے۔ زید اور عمرو ایک سودی بینک کے ملازم ہیں، زید کی تنخواہ تقریباً ۶۰،۰۰۰ روپے اور عمرو کی تنخواہ تقریباً ۲۰،۰۰۰ روپے ہیں، زید کا عہدہ تریژری مینیجر کا ہے۔ جبکہ عمرو کے عہدے کا تعین نہیں ہوا اور والد ایک سرکاری ادارے (PTV) سے ریٹائر ہیں، اور ان کی پنشن تقریباً آٹھ ہزار روپے ہے، جبکہ اس شخص کی تنخواہ دس ہزار پانچ سو روپے ہے جو کہ ایک فیکٹری میں ملازم ہے، گھر میں کھانے پینے کا خرچے کا کوئی تعین نہیں ہے۔ اس صورت حال میں اس شخص کا گھر میں کھانا پینا کیسا ہے؟ اس شخص کے لئے کیا مناسب ہے کہ وہ شخص کیا طریقہ کار اختیار کرے؟ برائے مہربانی بندہ کو اس بارے میں مطلع فرمائیں۔ نوٹ: عمرو کے عہدے کا تعین نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فی الحال الائیڈ بنک کی طرف سے ٹریننگ کر رہا ہے۔ عنقریب عہدہ دیا جائے گا، مگر کیا عہدہ ملے گا۔ اب تک معلوم نہیں۔ بوقتِ ضرورت کوئی چینی لے آیا کوئی آٹا کوئی گوشت وغیرہ ، اس طرح معاملہ چل رہا ہے۔ فقط!
مروّجہ بینکوں کا بیشتر کار و بار غیر شرعی اور سودی معاملات پر مشتمل ہونے کی بناء پر شرعاً جائز نہیں، اور ان میں مذکور ملازمت پر ملنے والی اجرت کا بھی یہی حکم ہے اس لئے بڑے بیٹے مسمی زید کی تنخواہ جائز نہیں اسے گھر یلو ضروریات میں خرچ کرنے سے احتراز لازم ہے۔
البتہ عمر و اگر سودی معاملات یا ان کے لکھت پڑھت کا کام نہ کرتا ہو تو اس کی اور اسی طرح والد صاحب موصوف کی تنخواہ کا استعمال اگر چہ درست ہے مگر مذکور بھائی کے سودی معاملات انجام دینے والے ادارے کے ساتھ ہونے کی بناء پر اس سے بھی احتراز بہتر و افضل ہے۔ جبکہ ابھی تک مشترکہ طور پر جو کچھ استعمال ہو چکا ہے اس پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے سودی کام پر ملنے والی تنخواہ کو مشترکہ کھاتہ میں ڈالنے اور اسے گھر میں استعمال کرنے سے بھی احتراز واجب ہے۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾ (البقرة: 275)-
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: "هم سواء" . رواه مسلم (2/ 134)۔
وفي حاشية ابن عابدين: لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه اهـ (إلى قوله ) وفي الذخيرة: سئل أبو جعفر عمن اكتسب ماله من أمر السلطان والغرامات المحرمة، وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه؟ قال: أحب إلي في دينه أن لا يأكل اھ (6/ 385)۔