السلام علیکم !حضرت میں پچھلے ڈیڑھ سال سے یوکے میں مقیم ہوں اور کھانا ڈلیور کر کے گزارہ کرتا ہوں ،پر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کام میں بر کت نہیں ہے ، میں اب ٹیکسی کا کام شروع کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے نیو ماڈل کار درکا ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ میری گنجائش نقد میں کار خریدنے کی نہیں ہے اور دوسرا آپشن کار فائنانس پر لینےکا ہے جس میں سود شامل ہوتا ہے۔
براہِ مہربانی راہنمائی فرمائیں کہ روزگار کی نیت سے اگر کوئی دوسرا آپشن نہ ہو تو کیا کار فائنانس پر لینے کی گنجائش ہے؟
صورت مسئولہ میں محض کاروبار شروع کرنے کی غرض سے سودی طریقہ کار کے مطابق کار فائنانس کا معاملہ کرنے کی شرعاً گنجائش نہیں،لہذا سائل کو چاہیئے کہ وہ اپنی معاشی حالت بہتر بنانے کیلئے سودی معاملہ کرنے کی بجائے کوئی دوسرا حلال ذریعہ معاش تلاش کرلے تو یہ اس کےدین ودنیادونوں کےلیے انجام کا رکے اعتبار سے بہتر ہوگا۔إنشاء اللہ
قال الله تعالى: وَ أَحَلَّ اللّٰہ البيع و حَرَّمَ الربوا الآية (سورۃ البقرۃ ، آيت : 275)۔ وفی صحیح مسلم: عن جابر قال: لعن رسول اللّٰہ صلى اللّٰہ علیہ و سلم آكل الربا و موكله و كاتبه و شاهديه ، و قال ھم سواء الخ (کتاب البیوع ، ج: 3 ، ص: 1219 ، ط: دار احیاء التراث العربی)ـ
وفي البحر الرائق: ولا يجوز قرض جر نفعا بأن أقرضه دراهم مكسرة بشرط رد صحيحة (الی قولہ) فان قضاه أجود بلا شرط جاز الخ (باب المرابحۃ والتولیۃ ، ج: 6 ، ص: 122 ط: رشیدیۃ)۔
وفي الدر المختار: القرض بالشرط حرام والشرط لغو (إلى قوله) كل قرض جر نفعاً حرام الخ
وفي رد المحتار : تحت : (قوله كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر الخ (فصل فی القرض ، ج: 5 ، ص: 166 ، ط: سعید)۔