میں ایک ایسی کمپنی کے لیے کام کرتا ہوں جو صرف خدمات فراہم کرتی ہے (کمپیوٹر، مشینیں فراہم نہیں کرتی) دوسرے کاروباری اداروں کو، حال ہی میں ایک اور کمپنی نے مجھ سے کمپیوٹر مشینوں کے سپلائر کی سفارش طلب کی۔ میں نے اپنے دوست کی کمپنی کا حوالہ دیا اور اس سے کہا کہ اگر یہ سودا ہوا تو مجھے مقررہ کمیشن دے۔ اس کمپنی نے کئی دوسرے سپلائرز سے قیمتیں مانگی، لیکن میرے دوست کی کمپنی نے سب سے کم قیمت دی اور سودا کامیاب رہا۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا اس کمیشن کو اسلامی نقطہ نظر سے حلال سمجھا جائے گا یا حرام؟ میری موجودہ کمپنی اور دوسری کمپنی دونوں جانتی ہیں کہ اسے بغیر پہلے سے طے کیےمیں نے حوالہ دیا ہے، لیکن کمیشن کے انتظام سے وہ دونوں واقف نہیں۔
تنقیح
کمپنی کا بنیادی کام کیاہے اور سائل اس کمپنی میں کیا کرتاہے؟ نیز کمیشن سے متعلق دونوں واقف کیوں نہیں ؟
جواب تنقیح
نوٹ:سائل نادرا آفس میں آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر ہے، جبکہ دوسری کمپنی پرائیویٹ ہے، اورآئی ٹی کی خدمات دیتی ہے،جبککہ دونوں کمپنیوں کا ایک دوسرے سے کوئی لین دین نہیں ،اس طرح کسٹمر اورکمپنی کو یہ معلوم نہیں کہ مجھے کمیشن ملے گا ،کمیشن میں نے خودسے طے نہیں کیا اور نہ مطالبہ کیا ہے، جس کمپنی کو کسٹمر بھیجا تھا وہ میرا دوست ہے ،اور ڈیل فائنل ہونے کے بعد وہ خود مجھے کمیشن دے رہاہے کہ یہ کسٹمر تمھاری وجہ سے آیا تھا ،اس میں تمھا رابھی حق ہے۔
صورت مسئولہ میں سائل کے دوست نے معاملہ فائنل ہونے پراگر کمیشن اسے ا زخود دیا ہو،اوروہ اس کمپنی کا مالک بھی ہو تو یہ شرعا ہبہ کہلائیگاجوکہ جائز ودرست ہے ،لیکن اگرسائل کا دوست مذکور کمیشن دوسری کمپنی یا خریدار سے لیکر دے رہاہے تو کمپنی کے مالک اور خریدار کے علم میں لائے بغیر سائل کو کمیشن دینا اس کے لئے شرعاجائز نہیں جس سےاحتراز لازم ہے۔
کما فی درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام: تنعقد الهبة والهدية والصدقة بالإيجاب والقبول وتتم بقبض الهبة والهدية والصدقة قبضا كاملا أي بقبض الموهوب له أو نائبه ومعنى تتم أي يفيد الملكية، فعلى هذا الوجه يكون الإيجاب والقبول هما ركن الهبة والصدقة والهدية كما أن الإيجاب والقبول هما ركن البيع والإجارة والعقود الأخرى انظر المادتين (491 و 433)( کتاب الھبۃ ،الفصل الأول في بيان مسائل متعلقة بركن الهبة وقبضها،المادۃ 837،ج2، ص 396،ط: دار الجیل)۔
وفیہ ایضا:(المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير لا يلزم الضمان. والمال الذي في يد الرسول من جهة الرسالة أيضا في حكم الوديعة) . ضابط: الوكيل أمين على المال الذي في يده كالمستودع الخ( الکتاب الحادی عشر،الباب الثالث، الفصل الاول،المادۃ 1463،ج3،ص561، دار الجیل)
و فی الھندیۃ : لایثبت الملک للموھوب لہ الا بالقبض ھو المختار ھکذا فی الفصول العمادیۃ الخ ( کتاب الھبۃ، الباب الثانی، ج 4، ص 378، ط: ماجدیہ)-