السلام علیکم
(1) جناب عالی گزارش ہے کہ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ”نیشنل سیونگ سر ٹیفیکیٹ“ سے آنے والا جو بھی منافع ہے ، وہ ہمارے لیے حلال ہے یانہیں ؟
(2) کیا میزان بینک سے حاصل کیا ہوا منافع حلال ہے یا حرام ؟
”نیشنل سیونگ “کے معاملات چونکہ سود پر مبنی ہوتے ہیں، اس لئے اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی خالص سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
(2) ہماری معلوما ت کے مطابق ”میزان بینک“ کے معاملات مستند مفتیانِ کرام کی نگرانی میں سر انجام دیے جاتے ہیں لہذا مذکور بینک سے منافع حاصل کرنے کی گنجائش ہے ۔
کماقال اللہ تعالٰی: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (275)سورۃ البقرۃ)۔
وفی صحیح البخاری: باب آكل الربا وشاهده وكاتبه وقوله تعالى: {الذين يأكلون الربا لا يقومون إلا كما يقوم الذي يتخبطه الشيطان من المس ذلك بأنهم قالوا: إنما البيع مثل الربا، وأحل الله البيع وحرم الربا، فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وأمره إلى الله، ومن عاد فأولئك أصحاب النار هم فيها خالدون} [البقرة: 275](ج3 صـ59 ط: دار طوق النجاۃ)۔