السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته،
میں clover films نامی ایپ میں شامل ہوں جس میں مجھے ایک لنک فراہم کیا جاتا ہے، جہاں میں پانچ ویڈیوز دیکھتا ہوں، ہر ویڈیو کی مدت تقریباً پانچ سیکنڈ ہوتی ہے۔ اس نظام کے تحت مجھے روزانہ تین سو روپے ملتے ہیں۔ شروع میں اس میں شامل ہونے کے لیے مجھے آٹھ ہزار روپے جمع کروانے پڑے۔
میری استدعا ہے کہ آپ اس معاملے پر شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح کی آمدنی لینا شرعی طور پر جائز ہے یا ناجائز؟ کیا یہ پیسہ حلال سمجھا جائے گا یا حرام؟
براہ کرم اس مسئلے کی وضاحت اور فتاویٰ فرمائیں تاکہ میں اپنے عمل کو شرعی تقاضوں کے مطابق درست کر سکوں۔
جزاک اللہ خیر۔
صورتِ مسئولہ میں اگر کہ مذکورہ ایپ میں شمولیت کے لیے پہلے رقم جمع کروائی جاتی ہو، پھر چند سیکنڈ کی ویڈیوز دیکھنے کے بدلے روزانہ مخصوص رقم دی جاتی ہو، تو یہ معاملہ جائزنہیں ۔کیونکہ بظاہر اس میں اصل مقصود کسی جائز حقیقی خدمت کے عوض اجرت دینانہیں ہے، بلکہ ابتدائی طورایڈوانس میں جمع کروائی رقم کے بدلے نفع حاصل کرنا ہے،جوسودکے زمرے میں داخل ہونے کی وجہ سےشرعاً ناجائزاورحرام ہے۔
لہٰذا سائل کو چاہیے کہ مشتبہ آن لائن اسکیموں سے اجتناب کرے اور حلال ذرائعِ معاش اختیار کرے۔
كمافي الدر المختار : "وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية."
وفي الشامية تحت قوله ( مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل.(6/4، ط: دار الفكر)
مجلة مجمع الفقه الإسلامي، مقالة الشيخ محمد تقي العثماني: ومقتضى هذين التعريفين أن المال مقصور على الأعيان المادية، فلا يشمل المنافع والحقوق المجردة، ولذلك صرح الفقهاء الحنفية بعدم جواز بيع المنافع والحقوق المجردة، وقد صرحوا بأن بيع حق التعلي لا يجوز. 5/1931)