میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور خواتین کے حقوق سے متعلق ایک ادارے میں کام کرتی ہوں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس ادارے میں ہر طرح کی کرپشن اور ناجائز حرکتیں بغیر کسی ثبوت کے کی جاتی ہیں۔ جب میری تقرری ہوئی تو میں نے ایمانداری سے کام شروع کیا، جس کی وجہ سے مجھے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوران میری شادی لاہور کے ایک شہری سے ہوگئی۔ میں نے اپنے محکمے کے سربراہ سے اجازت لے کر شادی کی چھٹیاں حاصل کیں، جو باضابطہ طور پر منظور ہوئیں، اور ان چھٹیوں کے دوران مجھے تنخواہ بھی ملتی رہی، کیونکہ یہ منظور شدہ رخصتیں تھیں۔
تاہم، شادی کے بعد سسرال کے حالات اتنے پیچیدہ ہو گئے کہ گھر کو بچانے کے لیے مجھے دوبارہ کراچی جا کر نوکری جوائن کرنا ممکن نہ رہا۔ میں نے محکمے کو خط لکھ کر درخواست کی کہ میری تنخواہ بند کر دی جائے اور مجھے قواعد کے مطابق اُس مقام پر تبادلہ دے دیا جائے جہاں میرا شوہر رہتا ہے۔
اس درخواست کو آگے بڑھانے کے لیے میں نے محکمہ کے ہیڈ سے لے کر وزیر تک ہر سطح پر درخواست کی، سب نے شروع میں یقین دہانی کروائی، لیکن کسی نے عملی اقدام نہیں کیا۔ نہ میری تنخواہ بند کی گئی اور نہ ہی میری درخواست پر کوئی باضابطہ جواب آیا۔الٹا مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ میں جھوٹا میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرواؤں یا پھر استعفیٰ دے دوں، یا کراچی آکر دوبارہ جوائن کروں۔
میرا سوال یہ ہے کہ محکمہ جان بوجھ کر میری درخواست کو آگے نہیں بھیج رہا، جبکہ میں اب اس جگہ دوبارہ کام نہیں کر سکتی، کیونکہ وہاں میرے خلاف کردار کشی کی جاتی ہے اور میرا مستقل گھر بھی اب وہاں نہیں ہے۔ قانون کے مطابق محکمے کو میری درخواست آگے بھیجنی چاہئیے تھی، لیکن وہ مجھے ذہنی دباؤ میں رکھے ہوئے ہیں، ایسی صورت میں جو تنخواہ مجھے اب تک مل رہی ہے، کیا وہ میرے لیے حلال ہے یا نہیں؟یاد رہے میں نے اپنی طرف سے ساری کاغذی کارروائی مکمل کی ہے۔ نہ میں نے کسی کو رشوت دی ہے، نہ ہی کسی غلط طریقے سے نوکری حاصل کی۔ یہ نوکری میں نے اپنی محنت سے امتحان پاس کر کے حاصل کی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائلہ نے اپنے محکمہ کے مجاز افسران سے قانونی طور پر رخصت منظور کروائی تھی، اور اس رخصت کے ساتھ تنخواہ برقرار رکھنا ضابطے کے مطابق تھا، اس لیے رخصت کے ایام میں ملنے والی تنخواہ سائلہ کے لیے شرعاً جائز و حلال ہے۔ اسی طرح نکاح کے بعد خاندانی مجبوری کے باعث سائلہ نے قاعدے کے مطابق تبادلے کی درخواست جمع کروائی، اور اپنی طرف سے تمام رسمی کاروائی مکمل کردی، لیکن محکمہ کی جانب سے تاخیر یا عدم جواب کی وجہ سے تبادلہ بر وقت نہ ہوسکا تو ایسی صورت میں جب تک سائلہ محکمہ کی باقاعدہ ملازمہ شمار ہوتی ہے اور اس کی سروس اسٹیٹس میں محکمہ کی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اس دوران ملنے والی تنخواہ بھی سائلہ کے لیے شرعاً جائز و حلال ہے۔ البتہ اگر سائلہ اس وقت محکمانہ دباؤ، کردار کشی یا ہراسانی کا سامنا کررہی ہو اور عملاً فرائض کی ادائیگی ممکن نہ ہو ، تو مناسب یہ ہےکہ وہ اپنےحالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس ادارے سے علیحدگی یا کسی بہتر ماحول کے انتخاب پر غور کرے، تاکہ عزت ، سکون اور اطمینان کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں کرسکے۔
کما قال تعالیٰ: وَأَوۡفُواْ بِٱلۡعَهۡدِۖ إِنَّ ٱلۡعَهۡدَ كَانَ مَسۡـُٔولٗا(الإسراء: ٣٤)-
وفی الأشباہ والنظائر: ومنھا البطالۃ فی المدارس، کأیام الأعیاد ویوم عاشوراء، وشھر رمضان فی درس الفقہ لم ارھا صریحۃ فی کلامھم والمسئلۃ علی وجھین: فإن کانت مشروطۃ لم یسقط من المعلوم شیء، وإلا فینبغی أن یلحق ببطالۃ القاضی، وقد اختلفوا فی أخذ القاضی ما رتب لہ من بیت المال فی یوم بطالتہ، فقال فی المحیط: إنہ یأخذ فی یوم البطالۃ، لأنہ یستریح للیوم الثانی، وقیل: لا یأخذ وفی المنیۃ: القاضی یستحق الکفایۃ من بیت المال فی یوم البطالۃ فی الأصح واختارہ فی منظومۃ ابن وھبان وقال: إنہ الأظھر فینبغی أن یکون کذلک فی المدارس، لأن یوم البطالۃ للاستراحۃ، وفی الحقیقۃ یکون للمطالعۃ والتحریر عند ذی الھمۃ اھ(الفن الاول القاعدۃ السادسۃ، العادۃ محکمۃ، ص 81، ط بیروت)-
وفی الھندیۃ: يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين، كذا في المضمرات. ويعتبر ابتداء المدة مما سمى، وإن لم يسم شيئا فهو من الوقت الذي استأجرها، كذا في الكافي اھ(الباب الثالث في الأوقات التي يقع عليها عقد الإجارة، ج: 4، ص: 415، ناشر: دارالفکر)-
وفی شرح المجلۃ: الأجیر الخاص یستحق الأجرۃ إذا کان فی مدۃ الإجارۃ حاضراً للعمل اھ(ج: 2، ص: 239، ناشر: مکتبۃ اسلامیۃ)-
وفی الدر المختار: (والثانی) وھو الأجیر (الخاص) ویسمی أجیر واحد (و ھو من یعمل لواحد عملاً مؤقتاً بالتخصیص و یستحق الأجر بتسلیم نفسہ فی المدۃ و إن لم یعمل کمن استوجر شھراً للخدمۃ أو اھ(باب ضمان الأجیر، ج: 6، ص: 69، ناشر:سعید)-
وفی الدر المختار: وفیہ: سئل ظھیر الدین عمن استأجر رجلاً لیعمر لہ فی الضیعۃ فلما خرج لزل المطر فامتنع بسببہ ھل لہ الأجر؟ قال لا اھ (باب ما يجوز من الاجارة وما يكون خلافا فيها أي في الاجارة، ج: 6، ص: 43، ناشر: سعید)-