کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ مغصوبہ زمین کی پیداوار غاصب کے لیے حلال ہے یا نہیں ؟
واضح ہوکہ غاصب كسی کی زمین غصب کرکے اس مغصوبہ زمین میں کاشت کاری کرے،اور اس کےنتیجے میں فصل تیارہوجائےتو ایسی صورت میں جس قدر اس نے زمین میں بیج وغیرہ کاشت کیا اورکاشت کاری میں جتنا خرچہ کیا، اس کے بقدر حاصل ہونے والی پیداوار اس کےلئے حلال ہوگی ،اوراس سے زائد کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کرنا لازم ہے، نیز اگر زمین میں کاشت کاری کی وجہ سے اگرمالک کا کوئی نقصان ہوا ہو تو اس کا ضمان بھی اسےادا کرنا لازم ہوگا ،البتہ اگراس زمین پر فصل غصب کے وقت سے موجود ہو، جو اصل مالک کا لگایا ہوا ہوتو ایسی صورت میں پیداواراصل مالک ہی کی ملکیت شمار ہوگی،غاصب کے لئے اس میں کچھ بھی استعمال کرنا جائز نہ ہوگا،بلکہ مکمل فصل اصل مالک کے حوالہ کرنا لازم اور ضروری ہوگا۔
كما في سنن ابي داؤد:عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ، وَلَهُ نَفَقَتُهُ(باب فی زرع أرض بغیراذن صاحبها،ج:2،ص:1314،ط:بشري)
وفی ردالمختار:(قوله ضمن النقصان بالإجماع)؛ لأنه إتلاف،(الی قولہ) ثم يأخذ الغاصب رأس ماله، وهو البذر وما غرم من النقصان، وما أنفق على الزرع، ويتصدق بالفضل عند الإمام ومحمد.فلو غصب أرضاً فزرعها كُرّاً فأخرجت ثمانية، ولحقه من المؤنة قدر كُرٍّ، ونقصها قدر كُرٍّ، فإنه يأخذ أربعة أكرار ويتصدق بالباقي.(كتاب الغصب،ج:6،ص:187،ط: سعيد)
وفی البدائع الصنائع:(وأما صفة الملك الثابت للغاصب في المضمون):فلا خلاف بين أصحابنا في أن الملك الثابت له يظهر في حق نفاذ التصرفات، حتى لو باعه، أو وهبه، أو تصدق به قبل أداء الضمان ينفذ، كما تنفذ هذه التصرفات في المشترى شراء فاسداً.واختلفوا في أنه هل يباح له الانتفاع به بأن يأكله بنفسه، أو يطعمه غيره قبل أداء الضمان فإذا حصل فيه فضل هل يتصدق بالفضل قال أبو حنيفة رضي الله عنه ومحمد رحمه الله: لا يحل له الانتفاع حتى يرضي صاحبه، وإن كان فيه فضل يتصدق بالفضل.وفي هذا الملك شبهة العدم؛ لأنه يثبت من وقت الغصب بطريق الاستناد، والمستند يظهر من وجه ويقتصر على الحال من وجه، فكان في وجوده من وقت الغصب شبهة العدم، فلا يثبت به الحل والطيب.ولأن الملك من وجه حصل بسبب محظور، أو وقع محظوراً بابتدائه، فلا يخلو من خبث، ولأن إباحة الانتفاع قبل الإرضاء يؤدي إلى تسليط السفهاء على أكل أموال الناس بالباطل، وفتح باب الظلم على الظلمة، وهذا لا يجوز.(كتاب الغصب،ج:7،ص:153،ط: سعيد)