مجھے آپ سے سوال یہ کرنا تھا کہ آج کل زیادہ تر کام آن لائن ہو رہا ہے، جیسے آن لائن ٹریڈنگ سونے میں بھی اور کرنسی میں بھی ، تو کیا یہ جائز ہے اپنی رقم لگا کر انویسٹ کرنا آن لائن؟، جیسے میٹا 5 ٹریڈنگ ایپ پر ؟ اور میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سٹاک ایکسچینج حلال ہے ؟ میرا مطلب اس میں انویسٹمنٹ کرنا۔ شکریہ
واضح ہو کہ آن لائن ٹریڈنگ کی جو صورتیں اس وقت رائج ہیں، وہ نہ صرف شرعی اصول و ضوابط کے خلاف ہوتی ہیں، بلکہ ان میں سے بیشتر صورتیں قمار اور جوئے کے لئے استعمال ہوتی ہیں، لہذا اس قسم کے آن لائن ٹریڈنگ کے کاروبار سے بچنا چاہیئے۔ سوال میں مذکور”میٹاٹریڈر5“بھی آن لائن کاروبارکی ایک قسم” فاریکس ٹریڈنگ“ کاہی ایک پلیٹ فارم ہے،اورفاریکس ٹریڈنگ کے کام کابیشترحصہ ناجائزاورحرام امورپرمشتمل ہونےکی وجہ سےشرعاًدرست نہیں ،لہذااس سے متعلقہ ہرقسم کی کاروباری سرگرمیوں سے گریزکرنا چاہیئے۔
جبکہ اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری درجِ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کی جائے تو اس صورت میں یہ بلاشبہ جائز اور اس سے حاصل ہونے والا نفع بھی جائز اور حلال ہے، وہ شرائط یہ ہیں:
(1) جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہیں، اس کا اصل کاروبار حلال ہو، اور اس کا کاروبار میں کسی قسم کا سودی قرض کا عنصر نہ ہو۔
(2) اس کمپنی کے کچھ فکسڈ اثاثے بھی وجود میں آچکے ہوں، یعنی صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں، ورنہ فیس ویلیو کے برابر رقم کے ساتھ ہی خرید وفروخت جائز ہوگی۔
(3) ماہانہ یا سالانہ نفع کی کوئی خاص رقم یقینی طور پر مقرر نہ ہو، بلکہ آمدنی سے فیصد کے حساب سے نفع مقرر کیا گیا ہو۔
(4) نفع ونقصان دونوں میں شراکت ہو۔
(5) اگر کمپنی سودی لین دین کرتی ہے تو اس کی سالانہ میٹنگ میں سود کے خلاف آواز اُٹھائی جائے۔
(6) جب منافع تقسیم ہوں تو دیکھ لیا جائے کہ نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کردے۔
یہ تب ہے جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا ہو، ا اور پھر گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ نفع حاصل کرنا ہو، لیکن بعض لوگ اس مذکور غرض سے نہیں خرید تے، بلکہ ان کا مقصد کیپیٹل گین ہوتا ہے یعنی وہ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہونے کا امکان ہے، چنانچہ اس کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں، اور پھر چند روز بعد جب قیمت بڑھ جاتی ہے، فروخت کر دیتے ہیں ،اور نفع حاصل کرتے ہیں، اس کی بھی شرعاً مذکور شرائط کے ساتھ گنجائش ہے ۔ لیکن اس کو درست کہنے کی دشواری سٹہ بازی کے وقت پیش آتی ہے جو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا، بلکہ آخر میں جا کر آپس کا فرق (ڈیفرنس) برابر کیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیشِ نظر ہوتا ہے ،لہذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو اور نہ لینا مقصود ہو اور نہ دینا مقصود ہو، بلکہ اس طرح سٹہ بازی کر کے ڈیفرنس کو برابر کر لینا مقصود ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے، اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے۔ اسی طرح بعض اوقات شئیرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی ان کو آگے فروخت کر دیا جاتا ہے ،اس کی بھی شریعت میں اجازت نہیں ہے، کیوں کہ شیئرز پر قبضہ ضروری ہے ،اور شیئرز کا قبضہ یہ ہے کہ شیئرز ہولڈر اس کے نفع ونقصان کا حقدار بن جائے، جس کو رسک میں آنے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ جس میں عام طور پر دو سے تین دن لگ جاتے ہیں، لہذا رسک میں آنےسے قبل شیئرز بیچنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللّٰہ تعالى : يا أيها الذين آمنوا انما الخمر و الميسر و الانصاب و الازلام رجس من عمل الشيطان فاجتنبوه لعلكم تفلحون الآية (سورة المائدة ، آیت: 9)ـ
وفی صحیح البخاری: عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ قال: قال النبی ﷺ الحلال بین والحرام بین وبینھما امور مشتبھۃ فمن ترک ما شبہ علیہ من الإثم کان لما استبان لہ اترک ومن اجترأ علی ما یشک فیہ من الإثم أوشک أن یواقع ما استبان والمعاصی حمی اللہ من یرجع حول الحمی یوشک أن یواقعہ الخ (ج: 2،ص: 1000، باب الحلال بین و الحرام بین ، ط: البشرٰی)۔
وفی رد المحتار : تحت: (قولہ لأنہ یصیر قمارا) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ و ینقص أخرٰی، و سمی القمار قمارا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ إلی صاحبہ و یجوز أن یستفید مال صاحبہ و ھو حرام بالنص (إلی قولہ) لأن القمار ھو الذی یستوی فیہ الجانبان فی احتمال الغرامۃ علی ما بینا اھ الخ (کتاب الحظر و الإباحۃ، ج: 6، ص: 403، ط: ایچ ایم سعید)ـ
و فی تکملۃ فتح الملھم : قولہ” کاتبہ “ لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ومن ھنا ظھر أن التوظف فی البنوک الربویۃ لا یجوز، فإن کان عمل الموظف فی البنک ما یعین علی الربا، کالکتابۃ أو الحساب، فذلک حرام لوجھین: الأول : إعانۃ علی المعصیۃ، والثانی: أخذ الأجرۃ من المال الحرام، فإن معظم دخل البنوک حرام مستجلب بالربا، و أما إذا کان العمل لا علاقۃ لہ بالربا فإنہ حرام للوجہ الثانی فحسب، فإذا وجد بنک معظم دخلہ حلال، جاز فیہ التوظف للنوع الثانی من الأعمال،اھ (باب لعن آکل الربا وموکله ، ج: 1 ، ص: 619 ، ط: دارالعلوم کراچی)ـ۔
وفی الدر المختار : الحرمۃ تتعدد مع العلم بہا الا فی حق الوارث وقیدہ فی الظہیرۃ بان لا یعلم ارباب الاموال الخ
وفی رد المحتار: تحت : (قوله الا فی حق الوارث الخ) (الی قوله) والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، و إلا فإن علم عين الحرام فلا يحل له، وتصدق به بنية صاحبه الخ (باب البیع الفاسد ، ج: 5 ، ص: 98 ، ط: سعيد)۔