السلام علیکم
مجھے انشورنس کے پیسوں کے متعلق بات کرنی ہے، میرے خاوند کو فوت ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ ہو گیا ہے، میرے تین بچے ہیں، دو بیٹے اور ایک بیٹی ،سب سے بڑا بیٹا سات سال کا ہے، چھوٹی بیٹی پانچ سال کی اور سب سے چھوٹا بیٹا ساڑھے تین سال کا ہے ،آمدنی کے کوئی ذرائع نہیں، مجھے کرایہ آتا ہے، جس میں الحمدللہ میں اپنا گزارہ کرتی ہوں، ہر سال میرے خاوند کے نام زونگ ٹاور کی طرف سے ایک چیک ریسیو ہوتا ہے، لیکن میرے خاوند کا اکاؤنٹ سیل ہو چکا ہے، اس لئے چیک بینک کے پاس جا رہے ہیں، لیکن اس بار اکتوبر میں جو چیک آنا ہے، اس سے پہلے ہی ہمیں ٹاور کی طرف سے کال آئی کہ اگر آپ اس بار رجسٹری ٹرانسفر نہیں کرواتے تو آپ کی جو تین سالوں کی جو اماؤنٹ ہیں یا جو پیسے ہیں ،وہ آپ کی مر جائیں گے، لیکن میرے پاس رجسٹری وغیرہ ٹرانسفر کروانے کے پیسے بالکل نہیں ہیں ، میرے پاس انشورنس کے پیسے پڑے ہوئے ہیں ،لیکن ان کا فتوی لیا تھا میں نے ،تو اس وجہ سے میں وہ پیسے استعمال میں نہیں لائی ،کیونکہ اسلام میں حرام ہے ،لیکن اب میرے پاس کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ میں رجسٹری ٹرانسفر کروا سکوں، کوئی پیسے نہیں ہے میرے پاس ،تو کیا میں انشورنس کے پیسے استعمال کر سکتی ہوں ؟ اور پھر جب میرے پاس اکاؤنٹ میں پیسے آئیں گے تو میں وہ پیسے واپس کر دوں گی ۔ اگر میں رجسٹری ٹرانسفر نہیں کرواتی تو میرے حلال پیسے مر جائیں گے اور آئندہ سالوں میں بھی وہ پیسے مجھے ریسیو نہیں ہوں گے، میرے پاس انشورنس کے پیسوں کے علاوہ کوئی پیسے نہیں ہیں، لہذا مجھے اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی کمی بیشی سے کام نہ لیا گیا ہو بایں طور کہ سائلہ کے پاس رجسٹری ٹرانسفر کے اخراجات ادا کرنے کا کوئی اور راستہ نہ ہواور اگر رجسٹری کی رقم ادا نہ کی گئی تو سائلہ کےجائزاور حلال پیسے بھی ضائع ہوجائیں گےتو ایسی حالتِ مجبوری میں انشورنس کی موجودرقم سے وقتی طور پر بطور قرض یہ ضروری اخراجات اٹھانے کی شرعاً گنجائش ہے۔تاہم جب سائلہ کے پاس جائز ذریعہ سے رقم آجائے تو انشورنس کی وہ پوری رقم جو خرچ ہوئی ہو، بلا تاخیر صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
کما فی فقہ البیوع: وذكر صاحب الاختيار فى شرح المختار " أنه وإن وجب التصدق بالفضل، ولكن إن احتاج إليه، بأن لم يكن في ملكه ما يشد به حاجة نفقته ونفقة عياله، فصرفه في حاجته بنية أنه يتصدق بمثله فيما بعد، جاز له ذلك. قال رحمه الله تعالى بعد بيان مذهب أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى في وجوب التصدق بالفضل:ولهما أنه حصل بسبب خبيث، وهو التصرف في ملك الغير، والفرع يحصل على صفة الأصل، والملك الخبيث سبيله التصدق به، ولو صرفه في حاجة نفسه جاز، ثم إن كان غنياً، تصدق بمثله، وإن كان فقيراً لا يتصدق.ولكنه مقيد بما إذا لم يكن عنده مال آخر لدفع حاجته. قال صاحب الهداية:"إلا إذا كان لا يجد غيره، لأنه محتاج إليه، وله أن يصرفه إلى حاجة نفسه، فلو أصاب مالاً، تصدق بمثله إن كان غنياً وقت الاستعمال. وإن كان فقيراً فلاشيئ عليه الخ(صرف الربح فی حاجۃ نفسہ،ج:2،ص:1045،ط:معارف القرآن)۔