ایک شخص بے نظیر انکم سپورٹ میں خدمت سر انجام دے رہا ہے، حکومت کی طرف سے مذکورشخص نے پندرہ لاکھ روپے اپنا جمع کیا ہے، ان میں سے کمپیوٹر ڈیوائس وغیرہ اور اپنی رقم مستحقین کو جن کا نام انکم سپورٹ میں درج ہے دیا جاتا ہے، سوال یہ ہے کہ ہر مستحق کو پیسے ادا کرنے پر حکومت اس شخص کو پندرہ روپے ادا کرتا ہے، اس کے علاوہ افسروں کے کہنے پر ہر مستحق کے بارہ ہزار میں سے تین سو کٹوتی کرتے ہیں، ان میں سے ایک سو پچاس ہمیں اور ایک سو پچاس افسروں کو دیا جاتا ہے،جبکہ کچھ افسران تین سو کٹوتی سے منع کرتے ہیں،تو کیا ہمارے لئے ایک سو پچاس روپے، اور تین سو روپے ان سے وصول کرنا درست ہیں، شرعاً ہمارے لیے کیا حکم ہے۔
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق مذکور شخص اگر حکومت کا نمائندہ ہو اور اس کی ذمہ داری بے نظیر انکم سپورٹ کے رقوم مستحقین میں تقسیم کرنے کی ہو، اور حکومت کی طرف سےاس کی اجرت( پندرہ روپے) مقرر کر دی گئی ہو تو اس کیلئے مستحقین کی رقم سے اضافی رقم(تین سو روپے) کاٹنا ظلم وغصب پر مبنی عمل ہے ،جو کہ ناجائز اور حرام ہے، اور احادیث مبارکہ میں حرام مال کھانے اور ظلم کرنے والوں کیلئے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا مذکور شخص کواس ناجائز اضافی رقم کی کٹوتی سے اجتناب اور مستحقین کوان کی پوری رقم دیانتداری سے پہنچانے کا اہتمام چاہیئے۔
قال اللہ تعالی : یایھا الذین اٰمنوا لاتأکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما۔ (سورۃالنسآء، آیۃ29)۔
وفی احکام القران ؛ (لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل) نھی لکل احد عن اکل مال نفسہ ومال غیرہ بالباطل واکل مال نفسہ بالباطل انفاقہ فی معاصی اللہ واکل مال الغیر بالباطل قد قیل فیہ وجھان: احدھما ماقال السدی وھو ان یاکل بالربا والقمار والبخس والظلم وقال ابن عباس والحسن ان یاکلہ بغیر عوض (الی قولہ) وقول النبیﷺ لا یحل مال إمرئ مسلم الا بطیبۃ من نفسہ الخ (باب التجارات وخیار البیع، ج2، ص171، ط: سہیل اکیڈمی)۔
وفی صحیح مسلم : عن أبي هريرة؛ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أيها الناس! إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا. وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم}. [23 / المؤمنون/ الآية 51] وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} [2 / البقر/ الآية 172] ثم ذكر الرجل يطيل السفر. أشعث أغبر. يمد يديه إلى السماء. يا رب! يا رب! ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام. فأنى يستجاب لذلك الخ (باب بیان ان اسم الصدقۃ الخ، ج1، ص528، ط: بشری)۔
وفی جامع الترمذی : عن ابن عمر رضی اللہ عنھما عن النبیﷺ قال الظلم ظلمات یوم القیامۃ الخ (باب ماجاء فی الظلم، ج2، ص715، ط: بشری)۔
وفی الدر المختار : لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلا اذنہ ولا ولایتہ الخ (باب الغصب، ج6، ص200، ط: سعید)۔