آمدنی و مصارف

ڈیجیٹل تصویر بیچنے کا حکم

فتوی نمبر :
89415
| تاریخ :
2025-12-01
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

ڈیجیٹل تصویر بیچنے کا حکم

مجھے ایک اور سوال ہے ۔ میرا کزن اور میں ایک طرح کا کام کرتے ہیں جس میں ہم جانوروں کی ایسی تصویر بناتے ہیں جسکا انداز انسانوں جیسا ہوتا ہے یعنی کردار کے بازو ااور ٹانگیں انسانی شکل کی ہوتی ہیں لیکن باقی حصہ جانور جیسا ہوتا ہے بلکل کارٹون کی طرح ۔ یہ کام امریکہ کے لوگوں کے لئے ہے اور اسے " فری آرٹ " بھی کہا جاتا ہے یہ کسے بھی جانور پر مبنی ہوسکتا ہے جو بھی جانور گاہک کو پسند آئے یا جس سے وہ خود کو وابستہ محسوس کرے ۔ ہم انکے لیے ایک خاکہ بناتے ہیں اور انکے " فرسونا " کے لیے رنگ اور انداز (سٹائل ) ڈیزائن کرتے ہیں ہم صرف اسکیچ بناتے ہیں اور اسمیں رنگ اور ڈیزائن شامل کرتے ہیں کیا یہ کام حلال ہے یا حرام ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سوال میں مذکور آرٹ کی ڈیزائنگ فقط ڈیجیٹل اسکرین کی حد تک محدود رہتی ہے یا کسی کاغذ وغیرہ پر اسے پرنٹ یا ڈیزائن کیا جاتا ہے تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا تاہم اگر یہ خاکے محض دیجیٹل اسکرین پر ڈیزائن کر کے اسکرین تک محدود ہوں اور بے حیائی اور فحاشی کی نشر و اشاعت کا سبب بھی نہ ہوں تو چونکہ بعض علماء کی تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل تصاویر ،تصاویر محرمہ کے زمرے میں داخل نہیں اس لئے اس کے بنانے اور اس پر اجرت لینے کی گنجائش ہوگی البتہ اگر یہ خاکے باقاعدہ کسی کاغذ وغیرہ پر ڈیزائن کیے جاتے ہوں یا اسمیں فحاشی اور عریانی والے عنصر بھی شامل ہوں تو اس کا ڈیزائن کرنا اور اس کی اجرت لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہوگا جس سے اجتناب لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشکاۃ المصابیح : عن عائشۃ رضی اللہ عنہا ان النبی ﷺ قال : اشد الناس عذابا یوم القیامۃ بخلق اللہ ( باب التصاویر ، ج : 8 ، ص : 266 ، ط : حقانیہ )
و فی مرقاۃ الفاتیح : قال اصحابنا و غیرھم من العلماء : تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم ، وھو من الکبائر لانہ متوعد علیہ بھذا الوعید الشدید المذکور فی الاحادیث ، سواء صنعہ فی ثوب او بساط او درھم او دینار او غیر ذلک ( باب التصاویر ، ج : 8 ، ص : 266 ، ط : حقانیہ )
و فی تکملۃ فتح الملھم : قال المرداوی فی الانصاف ( 474 / 1 ) " یحرم تصویر ما فیہ روح ، ولا یحرم تصویر الشجر و نحوہ ۔ والتمثال مما لا یشبہ ما فیہ روح ، علی الصحیح من المذاھب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یحرم تعلیق ما فیہ صورۃ حیوان ، و ستر الجدار بہ و تصویرہ علی الصحیح من المذھب " ( باب تحریم تصویر صورۃ الحیوان و تحریم اتخاذ ما فیہ ، ج : 4 ، ص : 159 ، ط : دار العلوم کراچی )
و فی الدر المختار : ( و لبس ثوب فیہ تماثیل ) ذی روح وفی رد المختار تحت قولہ : ( ولبس ثوب فیہ تماثیل ) وظاھر کلام النووی فی شرح المسلم الجماع علی تحریم صورۃ الحیوان ، و قال : وسواء صنعہ لما یمتھن او لغیرہ ، فصنعتہ حرام بکل حال لان فیہ مضاھاۃ لخلق اللہ تعالی ، و سواء کان فی ثوب او بساط او دراھم و اناء و حائط و غیرھا ( باب ما یفسد الصلوۃ و ما یکرھ فیھا ، ج : 1 ، ص : 647 ، ط : سعید )
و فی شرح السیر الکبیر : وَلَوْ ‌وَجَدُوا ‌فِي ‌الْغَنَائِمِ ‌صَلِيبًا مِنْ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أَوْ تَمَاثِيلَ، أَوْ دَرَاهِمَ، أَوْ دَنَانِيرَ فِيهَا التَّمَاثِيلُ، فَإِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ أَنْ يَكْسِرَ ذَلِكَ كُلَّهُ فَيَجْعَلَهُ تِبْرًا. لِأَنَّهُ لَوْ قَسَمَهُ أَوْ

بَاعَهُ كَذَلِكَ، رُبَّمَا يَبِيعُهُ مَنْ يَقَعُ فِي سَهْمِهِ مِنْ بَعْضِ الْمُشْرِكِينَ بِأَنْ يَزِيدُوا لَهُ فِي ثَمَنِهِ رَغْبَةً مِنْهُمْ فِي لِبَاسِهِ، أَوْ فِي أَنْ يَعْبُدُوهُ. فَلْيُتَحَرَّزْ عَنْ ذَلِكَ بِكَسْرِ الصَّلِيبِ وَالتَّمَاثِيلِ. فأما الدراهم والدنانير فلا بأس بقسمتها وبيعها قبل أن تكسر. لأن هذا مما لا يلبس۔۔۔وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف. فهناك ينبغي له أن يكسرها ثم يبيعها أو يقسمها حطبا ( باب ما يحمل عليه الفيئ وما يركبه الرجل من الدواب... ج: 3، ص: 143، ط: دار الكتب العلمية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89415کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سرکاری سکول کے اساتذہ کا مقررہ وقت سے پہلے چھٹی کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • والد مرحوم کی, حلال و حرام سے مخلوط آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
Related Topics متعلقه موضوعات