استفتاء:
محترم مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ہماری ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی ایک ایجنسی ایک ایسے کلائنٹ کے لیے کام کر رہی ہے جس کا پورا کاروبار عیسائی مذہب کی تشہیر و فروغ پر مبنی ہے۔ ہم ان کے لیے اور ان کے نیٹ ورک (جیسے عیسائی بلاگرز، پوڈکاسٹرز وغیرہ) کے لیے SEO، مواد کی تخلیق، ویب سائٹ مینجمنٹ اور لیڈ جنریشن کی خدمات فراہم کرتے ہیں.
ہم ان کے ساتھ پچھلے 6 ماہ سے کام کر رہے ہیں اور انہوں نے اگلے 12 مہینوں کی فیس پیشگی ادا کر دی ہے۔
سوال یہ ہے کہ:
کیا کسی ایسے ادارے کو ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی خدمات فراہم کرنا، جس کا صریح مقصد عیسائیت کی تبلیغ اور اس کے نیٹ ورک کو مضبوط کرنا ہو، شرعی لحاظ سے حرام شمار ہو گا؟ کیا ایسے کام سے حاصل ہونے والی آمدنی (پچھلی اور پیشگی) حلال ہے؟ نیز، موجودہ معاہدے اور پیشگی ادائیگی کی صورت میں ہمارا شرعی فریضہ کیا ہے؟
براہ کرم رہنمائی فرمائیں۔
جزاک اللہ خیرا
واضح ہو کہ آپ ﷺ کی بعثت کے بعد پچھلے تمام ادیان منسوخ ہوچکے اور اب نجات کا واحد راستہ شریعت محمدی کی پیروی ہے، لہذا عیسائیت کی تشہیر اور اس کے عقائد و نظریات کو عام کرنے میں مدد کرنا در اصل ایک باطل مذہب کے پر چار کرنے کے زمرے میں آتا ہے جو شرعاً جائز نہیں ، جس سے اجتناب لازم ہے، اور ایسی صورت میں حاصل ہونے والی آمدنی بھی شرعاً حلال نہ ہوگی ، لہذا سائل پر لازم ہے کہ وہ اس مد میں اب تک حاصل ہونے والی رقم کو صدقہ کردے، جبکہ آئندہ کے معاہدہ کو بھی منسوخ کرکے پیشگی ملنے والی رقم اصل مالک کو واپس کردے ۔
کما فی القران المجید: وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ،(سورة المائده.رقم الأية: ٢)
وقال الله تعالى في مقامٍ اخر: وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ وَهُوَ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ مِنَ ٱلۡخَٰسِرِينَ(سورۃ ال عمران، رقم الایۃ: 85،)
وفي التفسير لابن كثير: ثم قال تعالى: وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ الآية، أي: من سلك طريقًا سوى ما شرعه الله، فلن يقبل منه وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ كما قال النبي صلى الله عليه وسلم في الحديث الصحيح: "من عمل عملًا ليس عليه أمرنا فهو ردّ"(سورة ال عمران، ج: ٢، ص: ٣٧٣، مط: ابن الجوزي)
وفي مشكاة المصابيح: عن جابر: (أن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنسخة من التوراة فقال يا رسول الله هذه نسخة من التوراة فسكت فجعل يقرأ ووجه رسول الله يتغير فقال أبو بكر ثكلتك الثواكل ما ترى ما بوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فنظر عمر إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله صلى الله عليه وسلم رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " والذي نفس محمد بيده لو بدا لكم موسى فاتبعتموه وتركتموني لضللتم عن سواء السبيل ولو كان حيا وأدرك نبوتي لاتبعني)(باب الاعتصام بالكتاب والسنة، ج: ١، رقم الحديث: ١٩٤، مط: المكتب الاسلامي، بيروت)
وفي مرقاة المفاتيح تحت قوله: (لضللتم عن سواء السبيل) : فكيف مع وجودي وعدم ظهور موسى تتبعون كتابه المنسوخ وتتركون الأخذ مني (ولو كان) أي: موسى كما في نسخة (حيا) أي: في الدنيا فإن الأنبياء أحياء عند ربهم (وأدرك نبوتي) أي: زمانها (لاتبعني) : لأن دينه صار منسوخا في زماني، ولأخذ الميثاق منه ومن سائر الأنبياء على ذلك كما قال تعالى: {وإذ أخذ الله ميثاق النبيين لما آتيتكم من كتاب وحكمة ثم جاءكم رسول مصدق لما معكم لتؤمنن به ولتنصرنه} [آل عمران: 81] الآية.( باب الاعتصام بالكتاب والسنة، ج: ١، ص: ٤٤٠، مط: حقانية)
وفي البدائع: وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا، (كتاب الاجارة ، فصل في انواع شرائط ركن الاجارة، ج: ٤، ص: ١٨٩، مط: سعيد)
وفي بذل المجهود: فإن عندنا مصرح ومتفق عليه أن كل أجرة تكون على فعل المعصية تكون حراما.(باب في كسب الحجام، ج: ١١، ص: ١٢٩، مط: الدراسات الاسلامية)