کیا اسلام میں میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں مولڈ بنانے اور مینوفیکچرنگ آٹومیشن کے لیے ایک جنرل پرپز سافٹ ویئر ٹول تیار کروں، جہاں یہ سافٹ ویئر خود کسی خاص ممنوعہ پروڈکٹ کے لیے ڈیزائن نہ کیا گیا ہو، لیکن کوئی کلائنٹ اسے کسی ایڈلٹ نوعیت کے استعمال کے لیے استعمال کر سکتا ہے؟ میرا کام صرف تکنیکی پروگرامنگ (جیومیٹری پروسیسنگ اور آٹومیشن) تک محدود ہے، اور میرا حتمی پروڈکٹ کے ڈیزائن، تشہیر، یا استعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اگر سائل ایسا جنرل پرپز سافٹ ویئر تیار کرتا ہے جو اپنی اصل اور غالب استعمال کے اعتبار سے جائز صنعتی، مینوفیکچرنگ اور آٹومیشن مقاصد کے لیے ہو، اور وہ کسی خاص حرام یا فحش پروڈکٹ کے لیے مخصوص نہ ہو، نیز سائل کا کام صرف تکنیکی پروگرامنگ، جیومیٹری پروسیسنگ اور آٹومیشن تک محدود ہو، جبکہ حتمی مصنوعات کے ڈیزائن، تشہیر اور استعمال سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، تو اس قسم کا سافٹ ویئر تیار کرنا جائز ہے۔
البتہ اگر سائل کو کسی مخصوص کلائنٹ کے بارے میں یقین یا غالب گمان ہو کہ وہ اس سافٹ ویئر کو براہِ راست ناجائز، فحش یا حرام مقاصد کے لیے استعمال کرے گا، اور سائل اس مقصد کے لیے خصوصی معاونت یا کسٹمائزیشن بھی فراہم کرے، تو پھر یہ ناجائز کام پر تعاون کے زمرے میں آئے گا، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدرالمختار: (و) جاز تعمير كنيسة و (حمل خمر ذمي) بنفسه أو دابته (بأجر)اھ۔
وفی الشامیۃ:تحت (قولہ وحمل خمر ذمی)قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام «لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها» وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهاية وهذا قياس وقولهما استحسان، ثم قال الزيلعي: وعلى هذا الخلاف لو آجره دابة لينقل عليها الخمر أو آجره نفسه ليرعى له الخنازير يطيب له الأجر عنده وعندهما يكره(فصل فی البیع،ج:6، ص:391،392، م:سعید)۔