آمدنی و مصارف

سوشل میڈیا پیجز پر چلنے والے اشتہارات کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
90921
| تاریخ :
2026-01-14
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

سوشل میڈیا پیجز پر چلنے والے اشتہارات کی آمدن کا حکم

محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
قرآن و سنت کی روشنی میں ایک شرعی مسئلہ کے بارے میں رہنمائی مطلوب ہے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر پر لوگ اپنے پیجز اور پروفائلز کو کمانے کے مقصد سے مونیٹائز کرواتے ہیں۔ مونیٹائزیشن کے بعد ان کے ویڈیوز پر مختلف اشتہارات خودکار نظام کے تحت نشر ہوتے ہیں۔ ان اشتہارات میں اکثر میوزک، غیر مناسب مناظر اور خواتین کی تصاویر شامل ہوتی ہیں، جن پر پیج یا چینل کے منتظم کا براہِ راست اختیار نہیں ہوتا۔
ایسی صورت میں اس ذریعے سے حاصل ہونے والی آمدنی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلہ کا مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ یوٹیوب پر چینل بنا کر اس میں غیر شرعی امور( میوزک، فحش مواد وغیرہ )سے پاک ویڈیوز اپلوڈ کرنا جائز اور درست ہے، جب کہ ان ویڈیوز پر اشتہارات چلا کر اس کے ذریعے پیسے کمانے کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ جو اشتہارات غیر شرعی امور پر مشتمل نہ ہوں اور نہ ہی ان کے ذریعے کسی حرام پروڈکٹ یا عمل کی تشہیر ہوتی ہو تو اپنی ویڈیوز پر ایسے اشتہارات چلانے اور اس کے ذریعے حاصل شدہ کمائی کو اپنے استعمال میں لانے کی بھی اجازت ہے۔البتہ جو اشتہارات غیر شرعی امور پر مشتمل ہوں یا ان کے ذریعے کسی حرام پروڈکٹ یا عمل کی تشہیر ہوتی ہو یا وہ پروڈکٹ ہوں تو حلال، لیکن اس کی تشہیر میں کسی میوزک یا عورت کی تصاویر استعمال کی ہوں تو ایسی صورت میں اپنی ویڈیوز پر اپنے اختیار سے ایسے اشتہارات چلانا جائز نہیں۔ اور ایسی صورت میں ان اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ کمائی کو اپنے استعمال میں لانا بھی درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی یوٹیوبر غیر شرعی امور پر مشتمل اشتہارات کو روکنے کے لیے اپنی تمام ممکنہ تدابیر اختیار کر لے اور اس کے باوجود بھی یوٹیوب کی طرف سے ویڈیوز پر غیر شرعی امور پر مشتمل اشتہارات چلائے جاتے ہوں تو ایسی صورت میں امید ہے کہ یوٹیوب پر چینل بنانے والا اس گناہ میں شریک نہ ہوگا۔ البتہ ایسی صورت میں بھی اگر ممکن ہو تو کسی طرح تفصیلات معلوم کرکے غیر شرعی اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کے بجائے صدقہ کرنا چاہئیے۔ تاہم اگر غیر شرعی اشتہارات کے ذریعے حاصل شدہ آمدنی کی مکمل تمیز نہ ہو سکے تو غالب گمان کے مطابق کچھ رقم صدقہ کرنا چاہیئے ، اور یہی حکم ٹک ٹاک اور فیس بک پیجز کا بھی ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وکما فی قوله تعالي يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُلُواْ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقۡنَٰكُمۡ وَٱشۡكُرُواْ لِلَّهِ إِن كُنتُمۡ إِيَّاهُ تَعۡبُدُونَ ( سورة البقرة الآیۃ: 172 )
و في تفسير ابن الكثير عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا أيها الناس، إن الله طيب ‌ولا ‌يقبل ‌إلا ‌طيبا وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين»، فقال: {يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا إني بما تعملون عليم} [المؤمنون: 51]، وقال: {يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم} [البقرة: 172] قال: «وذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر يمد يده إلى السماء يا رب، يا رب ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك»:(ج؛1ص: 268ناشر؛قدیمی کتب خانہ)
وفی الدر المختار:أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريما وإلا فتنزيها. فليحفظ توفيقا الخ(فصل فی البیع،ج6،ص391،ط:سعید)
وفی رد المحتار تحت:(قوله معزيا للنهر) قال فيه من باب البغاة وعلم من هذا أنه لا يكره بيع ما لم تقم المعصية به الخ(فصل فی البیع،ج6،ص391،ط:سعید)
وفی المبسوط للسرخسی: فإنما حصل له الربح فيه بسبب خبيث شرعا والسبيل في الكسب ‌الخبيث ‌التصدق(ج:12 ص؛ 172 ناشر:السلم فی المسابق والفرا)
وفی رد المحتار قلت: وفي البزازية: ‌استماع ‌صوت ‌الملاهي ‌كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام: استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر أي بالنعمة، فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لاجله كفر بالنعمة لا شكر، فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع، لما روي أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق تكره أو لتغليظ الذنب كما في الاختيار لو للاستحلال كما في النهاية.(كتاب الحظر والإباحة،ص:349/6،ط:سعید)
وفي الہندیۃ : «ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا.»الخ (باب الاول تفسیر الاجارۃ ورکنہا ،ج:4 ص؛411 ناشر : المطبعۃ الکبری الامیریۃ)
و فی الفتاوی الھندیۃ: وإذا استأجر الذمي من المسلم دارا يسكنها فلا بأس بذلك، وإن شرب فيها الخمر أو عبد فيها الصليب أو أدخل فيها الخنازير ولم يلحق المسلم في ذلك بأس لأن المسلم لا يؤاجرها لذلك إنما آجرها للسكنى. كذا في المحيط. الخ (مسائل الشیوع فی الاجارۃ ج:6 ص:450 ط: دار الفکر ۔ بیروت)۔
و في فقه البيوع: ولكن معظم استعمال التلفزيون في عصرنا في برامج لا تخلو من محظور شرعي وعامة المشترين يشترونه لهذه الأغراض المحظورة من مشاهدة الأفلام والبرامج الممنوعة وإن كان هناك من لا يقصد به ذلك فبما أن استعماله في مباح في مباح ممكن فلا نحكم بالكراهة التحريمية في بيعه مطلقًا إلا إذا تعين بيعه لمحظور ولكن نظرًا لمعظم استعماله لا يخلو من كراهة تنزيهية الخ(ج1 ص335)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90921کی تصدیق کریں
0     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • مالک کے علم میں لائے بغیر کسی کام کے کرنے پر کمیشن لینا جائز نہیں

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • کسی بھی ملازم کا کمپنی کے توسط سے ہدیہ لینا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 0
  • کرکٹ میچ کے اسکور ویب سائٹ پر ڈال کر پیسے کمانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   آمدنی و مصارف 1
  • پروفیشنل کرکٹ کھیلنے اور اس کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 1
  • حلال آمدن میں حرام آمدن شامل ہونے سے سارا مال حرام ہوجائیگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال سے خریدی گئی گاڑی سے حاصل ہونے والی حلال آمدنی

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ایک مصرف کے نام پر چندے میں جمع کی ہوئی رقم ، کسی دوسرے مصرف میں خرچ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 4
  • فراڈ اور دھوکہ دہی سے حاصل کردہ مال کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 3
  • "پی ایل ایس " اکاؤنٹ کےمنافع اور اس کے مصرف کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • عورت کےلئے نس بندی کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • سودی رقم سے ٹیکس ادا کرنا جائز نہیں

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کسی کمپنی ویب سائٹ پر پر غیر متعلقہ کمپنی کی تشہیر پر اجرت لینے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • ”studypool.com“ ویب سائٹ پر لٹریچر نوٹس سیل کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • لڑکی کی تصویر والی اشیاء بیچنےکا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • قبرستان میں لگے ہوئے درختوں کا کاٹنا -حدیث "قاتل مقتول دونوں جہنمی" کی تشریح

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک کے لیے انجئنیرنگ کا کام کر کے اس کمائی کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کیا پیسے کمانا اللہ سے دوری کا سبب ہے ؟

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • اولیاء اللہ کی قبروں کو تجارت کا ذریعہ بنانا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 1
  • دکان کے سامنے والی جگہ کرایہ پر دینا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • میزان بینک کے" نیا پاکستان اسلامک سرٹیفکیٹ" میں سرمایہ کاری کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • مقررہ تنخواہ والے امام کا اپنے لئے ،اپنی مسجد میں چندہ کرنا

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 2
  • رشوت دیکر لی ہوئی نوکری کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • بینک اکاونٹ کے سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • کرنٹ اکاونٹ کا کہنے کے باوجود ، بینک والوں نے سیونگ اکاونٹ کھول دیا،اس میں جمع شدہ سودی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
  • حرام مال خرچ کرنے کے بعد بھی بلانیت ثواب صدقہ کرنالازم ہے

    یونیکوڈ   آمدنی و مصارف 0
Related Topics متعلقه موضوعات