لے پالک کے احکام

لے پالک کے احکام کے متعلق

فتوی نمبر :
91047
| تاریخ :
2026-01-17
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / لے پالک کے احکام

لے پالک کے احکام کے متعلق

بخدمت جناب مفتی صاحب دارالافتاء بنوریہ کراچی ،جناب عالی میری شادی 1987 کو ص خاتون کے ساتھ کراچی میں انجام پائی کیونکہ مجھے اس بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہوئی لہذا میری بیوی کے ایک دور کے رشتہ دار نے 2009 میں اپنا بیٹا مجھے اور میری بیوی کو ایک دستاویز کے مطابق سپرد کیا جسے میں نے گود لے لیا ، اسے اپنی ولدیت دی ، اس کے تمام دستاویزات اپنے اور اپنی بیوی کے نام سے بنوائے ،اگست 2022 کو میری بیوی ص خاتون کا انتقال ہوگیا جس کے بعد میں نے دوسری شادی کرلی جس سے اللہ پاک نے مجھے د و بیٹے عطا کئے ہیں ، آپ سے گزارش ہے ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے میری رہنمائی فرمائیں ،
1۔ میں اپنی جائیداد میں اپنی اولاد کے مقابلے میں لے پالک بچے کو کتنا حق دونگا ،
2۔کیا میں قرآن و سنت کی رو سے لے پالک بچے کو اپنی ولدیت دے سکتا ہوں ،
3۔کیا یہ تمام دستاویزات جو اپنے لے پالک بچے کے سلسلے میں بنوائے ہیں قانونی طریقے سے اسے درست کروا سکتا ہوں ،
4۔کیا یہ لے پالک بچہ اپنے حقیقی والد کے جائیداد میں اپنا حق یا حصہ حاصل کرسکتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعت میں کسی بچے کو گود لینے ، لے پالک بنانے سے وہ حقیقی اولاد کی طرح نہیں بنتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد کے احکام (جیسے وارث ہونا ،گود لینے والے کی طرف ولدیت کا منسوب کرنا وغیرہ ) جاری ہوتے ہیں ، اس لیے لے پالک حقیقی بیٹوں کی طرح وراثت میں شریک نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کو حقیقی اولاد کی طرح حصہ ملتا ہے اور نہ ہی لے پالک کو اپنی ولدیت میں شامل کرنا درست ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا لے پالک بچے کو اپنی طرف منسوب کرنا اور اس سے متعلقہ سرکاری و غیر سرکاری دستاویزات میں بجائے اس کے حقیقی والد کے اپنا نام درج کروانا شرعا جائز نہیں ، اس لئے سائل پر لازم ہے کہ اس بچے سے متعلقہ تمام دستاویزات میں اس کے حقیقی والد کا نام درج کروائے ، اسی طرح مذکور لے پالک سائل کی حقیقی اولاد کے ساتھ وراثت میں بھی شریک نہ ہوگا بلکہ اپنے حقیقی والد ہی کی جائیداد کا بقدر حصہ شرعی وارث اور حقدار ہوگا البتہ اگر سائل اس لے پالک کو اپنے مال اور جائیداد میں سے بطور احسان کچھ دینا چاہےتو دے سکتا ہے ، اور یہ حصہ میراث نہیں ، بلکہ اس کی جانب سے ہبہ (گفٹ یا تحفہ)کہلائے گا ، جس میں شرعا فقط کاغذات میں نام کردینا کافی نہیں ، بلکہ قبضہ و تصرف کا اختیار دینا بھی ضروری ہے تاکہ یہ ھبہ شرعا بھی درست ہوسکے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی القرآن المجید : وَمَا ‌جَعَلَ ‌أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ (سورۃ الاحزاب۔رقم الایۃ:٤)
وفي التفسیر المظہری :فلا یثبت بالتبني شيئ من الاحكام البنوة من الارث و حرمة النكاح و غير ذلك (ج: ٧،ص:٢٨٣ )
وفي رد المحتار تحت (قوله: الإقرار بالولد إلخ) قال عليه الصلاة والسلام ‌حين ‌نزلت ‌آية ‌الملاعنة الى قوله : وفي الصحيحين عنه عليه الصلاة والسلام «من ادعى أبا في الإسلام غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام» (باب اللعان ،ج:٣ ص: ٤٩٣،مط : سعيد)
وفي التاترخانية : وأما شرائط صحتها فأنواع ،أما في الموهوب فهو أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض و أن يكون الموهوب مقسوما اذا كان ما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب و لا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب (كتاب الهبة ، ج: ١٤، ص؛ ٤١٢،ناشر ؛ حقانية )
وفي الهندية : ويستحق الإرث بإحدى خصال ثلاث: بالنسب وهو القرابة، والسبب وهو الزوجية، والولاء وهو على ضربين: ولاء عتاقة وولاء موالاة وفي كل منهما يرث الأعلى من الأسفل ولا يرث الأسفل من الأعلى إلا إذا شرط فقال: إن مت فمالي ميراث لك؛ فحينئذ يرث الأسفل من الأعلى، كذا في خزانة المفتين. والوارثون أصناف ثلاثة: أصحاب الفرائض والعصبات وذوو الأرحام، كذا في المبسوط (الباب الثاني في ذوي الفروض ،ج:٦،ص:٤٤٧،مط:ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اظہر امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91047کی تصدیق کریں
0     179
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ایدھی سے لاوارث بچہ گودلے کر اس کی پرورش کرنا

    یونیکوڈ   اسکین   لے پالک کے احکام 1
  • لے پالک بھتیجے کی ولدیت میں اپنانام لکھوانا

    یونیکوڈ   اسکین   لے پالک کے احکام 0
  • لےپالک بچہ پرورش کرنے والی عورت کےلئے محرم ہوگایا نہیں؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لے پالک کے احکام 0
  • کسی کا بچہ لے کر پالنا شادی کرانا اور جائیداد میں حصہ دلوانا

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کی ولدیت میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 2
  • گود لئے بچے کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے ؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • زنا سے پیدا شدہ بچے کی لے پالک اولاد کے طور پر پروش کرنا جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 1
  • لے پالک اولاد کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹے کی وراثت کا مسئلہ

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 2
  • لے پالک بیٹے کو واپس لینے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بچہ کو ساری جائیداد دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹی کے نکاح میں حقیقی والد کا نام نہ لینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کی ولدیت میں کسی اور کا نام لکھوانا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • پرورش کرنے والے کا نام بطور ولدیت لکھنے کے لیے گواہی دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک لڑکی کے نکاح میں کس کی ولدیت لکھوائی جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • متبنی بچے کے والد کے خانہ میں کس کا نام لکھنا ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کے ولدیت میں مربی کا نام لکھوانا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • بھتیجے کو لے پالک بیٹے کے طور پر پالنے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • ربیبہ کو اپنا نام دینا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بچے کو اپنی طرف منسوب کرنا

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کو محرم بنانے کا طریقہ

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک بیٹا-بیٹی کے احکام

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لے پالک کے احکام کے متعلق

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
  • لاعلمی میں لے پالک کی ولدیت غیر والد کی طرف ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   لے پالک کے احکام 0
Related Topics متعلقه موضوعات