ایسی کمپنی بنانا جو لوگوں کو بھرتی کرکے کسی باہر ملک لے جائے، ان کی ماہانہ تنخواہ خود مقرر کرے ۔پھر ان کو مختلف اداروں میں روزگار دلواۓ اوران اداروں سے جو معاوضہ ملے ، اس میں سے ان لوگوں کو اپنا مقرر کردہ معاوضہ کے برابر ادا کرے اور بقایا خود رکھے ۔ جب ان لوگوں کے لئے کوئی روزگار میسر نہ ہو تو ان کے ماہانہ اخراجات کے لئے ایک معقول رقم ان کو دے براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ شرعا اس طریقہ کار کے مطابق کوئی کمپنی بنانا درست ہو گا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر کمپنی بیرونِ ملک افراد کو ملازمت فراہم کرنے کی عوض باہمی رضامندی سے ماہانہ تنخواہ مقرر کرکےپھر مختلف اداروں میں کام لینے کی ذمہ داری خود اپنے ذمہ لے، اورجب تک کام میسرنہ ہوان مزدوروں کے مناسب اخراجات یاوظیفہ کاانتظام کرے اورملازمت میسرآجانے کے بعد ان اداروں سے ایک متعین اجرت طے کرنے کے بعد مزدوروں سے اس سے کم اجرت پر کام کروائے، تو یہ صورت شرعاً جائز ہے، کیونکہ اس صورت میں مزدوروں کا معاملہ کمپنی کے ساتھ ہوگا، چنانچہ کمپنی کے لیےاس صورت میں اداروں سے وصول شدہ رقم میں سے مزدوروں کی طے شدہ اجرت کی ادائیگی کے بعدبچ جانے والی رقم کوبطور نفع اپنے پاس رکھنے کی گنجائش ہوگی، البتہ اگر کمپنی خود کام کی ذمہ داری نہیں لیتی، بلکہ صرف مزدوروں کو مختلف اداروں یا کمپنیوں سے ملواتی ہے، اور بعد میں وہ ادارے براہِ راست ان مزدوروں سے کام لے کر انہیں اجرت دیتے ہیں، تو ایسی صورت میں مزدور اپنی پوری اجرت کے خود حق دار ہوں گے، کمپنی ان کی اجرت میں سے کسی حصہ کی مستحق نہیں ہوگی۔ تاہم کمپنی صرف ایک بارملازمت فراہم کروانے کے عوض ملازمین سے یا ان اداروں کوافراد فراہم کرنے کے بدلے پہلے سے طے شدہ کمیشن یا فیس لے سکتی ہے۔اس صورت میں ملازمین کی تنخواہ یااداروں سے ہرماہ کمیشن کے نام پرمخصوص رقم وصول کرناجائزنہیں ہوگا ،جس سے احترازلازم ہے۔
كما في البدائع: وللأجير أن يعمل بنفسه وأجرائه إذا لم يشترط عليه في العقد أن يعمل بيده؛ لأن العقد وقع على العمل، والإنسان قد يعمل بنفسه وقد يعمل بغيره؛ ولأن عمل أجرائه يقع له فيصير كأنه عمل بنفسه،(كتاب الاجارة، فصل في حكم الاجارة، ج: ٤، ص: ٢٠٨، مط: سعيد)
وفي تنوير الأبصار مع الدر المختار: (والثاني) وهو الاجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الاجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو) شهرا (لرعي الغنم) المسمى بأجر مسمى،
وفي رد المحتار تحت (قوله لواحد) أي لمعين واحدا أو أكثر. قال: القهستاني لو استأجر رجلان أو ثلاثة رجلا لرعي غنم لهما أو لهم خاصة كان أجيرا خاصا كما في المحيط وغيره اهـ فخرج من له أن يعمل لغير من استأجره أولا. (قوله عملا مؤقتا) خرج من يعمل لواحد من غير توقيت كالخياط إذا عمل لواحد ولم يذكر مدة ح(كتاب الاجارة، مبحث الأجير الخاص، ج:٦، ص: ٦٩، مط: سعيد)
وفي الهندية: استأجره ليبني له حائطا بالآجر والجص وعلم طوله وعرضه جاز. كذا في محيط السرخسي.(الباب السادس في مسائل الشيوع للاجارة، ج: ٤، ص: ٤٥١، مط: ماجدية)
وفي بدائع الصنائع : والسمسار هو الذي يبيع أو يشتري لغيره بالأجرة فهو محمول على ما إذا كانت المدة معلومة وكذا إذا قال بع لي هذا الثوب ولك درهم وبين المدة وإن لم يبين فباع واشترى فله أجر مثل عمله لأنه استوفى منفعته بعقد فاسد(كتاب الاجارة،ج:٤،ص:١٨٤،ناشر:ايچ ایم سعید)