گورنمنٹ کا ایک ادارہ دوسرے ادارے کو خدمات فراہم کرتا ہے مثلاً وہ کہتے ہیں کہ یہ کام اتنے پیسے میں کرنا ہے تو وہ کام اتنے پیسے یا کم پیسوں میں کسی ٹھیکدار سے کرواتے ہیں لیکن ٹھیکدار سے ایک مقررہ فیصد سے کمیشن لیتے ہیں اور ان کے ملازمین آپس میں شئیر کے حساب سے تقسیمِ کر لیتے ہیں لیکن یہ کمیشن ٹھیکے میں نہیں ہے البتہ ٹھیکدار کے علم میں ہوتا ہے کہ میں نے ادارہ کے ملازمین کو اتنا فیصد کمیشن دینا ہے
کیا یہ کمیشن لینا جائز ہے یا نہیں
واضح ہو کہ ملازم (خواہ سرکاری ہو یا غیر سرکاری)کو چونکہ اپنے کام پر مقررہ اجرت (تنخواہ)ملتی ہے، لہذا اپنے مفوضہ امور کی ادائیگی پر ادارہ کے علاوہ کسی اور شخص سے اجرت یا کمیشن لینا شرعاً رشوت ہونے کی بناء پر ناجائز اور گناہ ہے،جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے،لہذا صورت مسئولہ میں گورنمنٹ ادارہ کے ملازمین کا ٹھیکیدار کو کام دے کر اس کے عوض اس سے کمیشن لینا رشوت ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: (وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه(کتاب الأمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهدایاهم، الفصل الثاني،ج:6،ص:2437، ،ط:دارالفکر بیروت،رقم الحدیث:3753)