میرا سوال "کیو آئی گروپ" (QI Group) کے کاروبار کے بارے میں ہے، جو پاکستان میں "کیو نیٹ" (QNET) کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔ یہ کیو آئی گروپ ایک ملائیشین شخص "وجے ایشورَن" (Vijay Eswaran) کی ملکیت ہے،اس کا کاروباری نظام ملٹی لیول مارکیٹنگ (Multilevel Marketing) پر مبنی ہے، جس میں گاہکوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ کمیشن ایجنٹ بن جائیں اور مزید دو گاہک تلاش کریں، پھر وہ دونوں گاہک بھی مزید دو دو گاہک بنائیں۔ اس طرح ایک ہرم (Pyramid) اسکیم تشکیل پاتی ہے،اس ہرم نما نظام میں نیچے سے اوپر تک تمام ایجنٹس بغیر براہِ راست خرید و فروخت میں شامل ہوئے کمیشن حاصل کرتے ہیں، ہر کمیشن ایجنٹ خود کوئی پروڈکٹ نہیں خریدتا بلکہ وہ QNET پاکستان (جو کہ QI گروپ کی ذیلی کمپنی ہے اور اس کا ہیڈکوارٹر ہانگ کانگ میں ہے) کے لیے بطور سیلز ایجنٹ کام کرتا ہے۔کیا قرآن و سنت کی روشنی میں اس کاروبار کا حصہ بننا جائز ہے؟
سوال میں تحریر کردہ ملٹی لیول مارکیٹینگ کی طرز پر کام کرنے والی مذکور غیر ملکی کمپنی کی طرح مختلف کمپنیاں کام کررہی ہیں، جو کم قیمت کی چیز مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں ،اور ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں۔ لوگ کمیشن کے لالچ میں آکر کم قیمت کی چیز مہنگے داموں میں خرید لیتے ہیں، اس طرح کمپنیوں کا اصل مقصد کاروبار کرنا نہیں ہوتاہے، بلکہ کمپنی کو اپنی تشہیر کےلیے زیادہ سے زیادہ ممبرز اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے کمپنی لوگوں سے مخصوص رقم لیکر اس چین کا حصہ بنالیتی ہے اور مزید لوگوں کو شامل کرنے کے لیے انہیں ایک لنک دیاجاتاہے، پھر اگرکوئی شخص اس پرانے ممبرکے توسط سے اس چین کا حصہ بنتاہے، تو اس کی رقم سے پرانے ممبر کو کمیشن دیا جاتا ہے، اور یہ سلسلہ کمیشن درکمیشن چلتا رہتاہے، لیکن اگر کوئی ممبر مزید لوگوں کو شامل کرنے میں ناکام رہے، تو اس کو کمیشن کی صورت میں منافع بھی نہیں ملتا، جو کہ غرر اور قمارکی ایک صورت ہے۔
اسی طرح اس بلاک چین میں کمپنی اور ممبر کے درمیان ہونے والے معاملے کی حیثیت اور نوعیت کی کوئی وضاحت بھی نہیں ، بلکہ ایک مجہول عقد کے نتیجے میں اسے نفع مل رہا ہوتاہےاوراس کمپنی میں بالواسطہ ممبرز بننے والوں کے عمل سے ماقبل کے ممبرکو بغیر کسی محنت وعمل کے منافع بھی مل رہا ہوتا ہے، جو شرعاًجائز نہیں، لہذا اس طرح چین کا حصہ بننا اور دوسروں کو اس میں شامل ہونے کی ترغیب دینا درست نہیں، اس سے اجتناب چاہیئے۔
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)۔
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ ( فصل فی البیع، ج: 6، ص: 403، ط: سعید )
وفی البحر الرائق: لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحد منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص اھ ( باب مسائل فی المسابقہ والقمار، ج: 8، ص: 554، ط: دارالکتاب الاسلامی )