السلام علیکم! مفتی صاحب، میں مختلف موبائل گیمز کے لیے ”گیمنگ بوسٹنگ“ (Gaming Boosting) کی خدمات فراہم کرتا ہوں۔ اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ میں دوسرے کھلاڑیوں سے پیسے لے کر ان کے گیم اکاؤنٹ پر خود کھیلتا ہوں اور اپنی مہارت اور وقت استعمال کر کے ان کا ”رینک“ یا درجہ بڑھا دیتا ہوں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان گیمز کی ”شرائطِ خدمت“(Terms of Service) میں اکاؤنٹ کسی دوسرے کو دینے، ایسی خدمات فروخت کرنے یا خریدنے کی واضح ممانعت ہے۔ جب میں نے یہ گیمز ڈاؤن لوڈ کیے تھے، تو میں نے ان شرائط سے اتفاق (Agree) کیا تھا، لیکن اب یہ سروس فراہم کر کے میں تکنیکی طور پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہوں۔ کمپنی کی پالیسی کے مطابق یہ عمل (بوسٹنگ کرنا اور کروانا) دونوں ہی ممنوع ہیں۔ میں نے اپنی سروس کی تفصیلات میں واضح طور پر یہ لکھ رکھا ہے کہ یہ عمل گیم کے قوانین کے خلاف ہے اور اس سے گاہک کا اکاؤنٹ بند ہو سکتا ہے، اور گاہک اس کی ذمہ داری خود قبول کرتا ہے۔ میری نظر میں یہ کام حلال ہونا چاہیئے کیونکہ یہ باہمی رضامندی سے محنت اور وقت کی اجرت ہے، لیکن چونکہ کمپنی کا معاہدہ بیچنے اور خریدنے دونوں سے منع کرتا ہے، اس لئےمیں اپنی آمدنی کے شرعی حکم کے بارے میں پریشان ہوں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ایسی خدمات فروخت کرنا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعی لحاظ سے حلال ہے یا حرام؟
سائل نے مذکور گیم سے کمائی حاصل کرنے کے طریقہ کار کی تٖفصیل ذکر نہیں کی تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا،تاہم اگر مذکور گیم میں ہار جیت پر جوا کھیلا جاتاہویا ان گیموں میں خواتین کی بےپردہ تصاویر،میوزک وغیرہ ،غیر شرعی امور موجود ہوں تو ایسی صورت میں مذکور گیم کھیل کر اس کے ذریعے کمائی حاصل کرناجائز نہ ہوگا،اسی طرح گیم انتظامیہ کی Terms of Serviceکی خلاف ورزی کرکے دیگر لوگوں کے رینک بڑھانا بھی جائز نہیں،جس سے اجتناب لازم ہے،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہوتو اس کی مکمل تفصیل لکھ کر سوال دوبارہ ارسال کریں،اس پر غوروفکر کے بعد انشاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کیاجائےگا۔
کماقال اللہ تعالیٰ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ(سورۃ المائدۃ: 1)
وفی بدائع الصنائع : ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس.)كتاب الإجارة،ج:4،ص:192،ط:سعید)
وفیہ ایضا:وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما وكذا لو استأجر رجلا ليقتل له رجلا أو ليسجنه أو ليضربه ظلما وكذا كل إجارة وقعت لمظلمة؛ لأنه استئجار لفعل المعصية فلا يكون المعقود عليه مقدور الاستيفاء شرعا فإن كان ذلك بحق بأن استأجر إنسانا لقطع عضو جاز (کتاب الإجارة،ج:4،ص:189،ط:سعید)
وفی حاشية ابن عابدين :(قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية (کتاب الإجارة،ج:6،ص:4،ط:سعید)